بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 4128 — باب: غزوہ ذات الرقاع کا بیان۔
کتب صحیح بخاری کتاب: غزوات کے بیان میں باب: غزوہ ذات الرقاع کا بیان۔ حدیث 4128

Q4125 حوالہ جات (References)

وَهِيَ غَزْوَةُ مُحَارِبِ خَصَفَةَ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ مِنْ غَطَفَانَ فَنَزَلَ نَخْلًا وَهِيَ بَعْدَ خَيْبَرَ , لِأَنَّ أَبَا مُوسَى جَاءَ بَعْدَ خَيْبَرَ.
‏‏‏‏ یہ جنگ محارب قبیلے سے ہوئی تھی جو خصفہ کی اولاد تھے اور یہ خصفہ بنو ثعلبہ کی اولاد میں سے تھا۔ جو غطفان قبیلہ کی ایک شاخ ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس غزوہ میں مقام نخل پر پڑاؤ کیا تھا۔ یہ غزوہ خیبر کے بعد واقع ہوا کیونکہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ غزوہ خیبر کے بعد حبش سے مدینہ آئے تھے (اور غزوہ ذات الرقاع میں ان کی شرکت روایتوں سے ثابت ہے)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: Q4125]
حدیث نمبر: 4128 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَبُو أُسَامَةَ ، بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ , حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ , عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ وَنَحْنُ سِتَّةُ نَفَرٍ بَيْنَنَا بَعِيرٌ نَعْتَقِبُهُ , فَنَقِبَتْ أَقْدَامُنَا وَنَقِبَتْ قَدَمَايَ وَسَقَطَتْ أَظْفَارِي , وَكُنَّا نَلُفُّ عَلَى أَرْجُلِنَا الْخِرَقَ , فَسُمِّيَتْ غَزْوَةَ ذَاتِ الرِّقَاعِ لِمَا كُنَّا نَعْصِبُ مِنَ الْخِرَقِ عَلَى أَرْجُلِنَا , وَحَدَّثَ أَبُو مُوسَى بِهَذَا , ثُمَّ كَرِهَ ذَاكَ , قَالَ: مَا كُنْتُ أَصْنَعُ بِأَنْ أَذْكُرَهُ , كَأَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَكُونَ شَيْءٌ مِنْ عَمَلِهِ أَفْشَاهُ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوامامہ نے بیان کیا ‘ ان سے برید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے ‘ ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ کے لیے نکلے۔ ہم چھ ساتھی تھے اور ہم سب کے لیے صرف ایک اونٹ تھا ‘ جس پر باری باری ہم سوار ہوتے تھے۔ (پیدل طویل اور پر مشقت سفر کی وجہ سے) ہمارے پاؤں پھٹ گئے اور میرے بھی پاؤں پھٹ گئے تھے۔ ناخن بھی جھڑ گئے تھے۔ چنانچہ ہم قدموں پر کپڑے کی پٹی باندھ باندھ کر چل رہے تھے۔ اسی لیے اس کا نام غزوہ ذات الرقاع پڑا ‘ کیونکہ ہم نے قدموں کو پٹیوں سے باندھ رکھا تھا۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث تو بیان کر دی ‘ لیکن پھر ان کو اس کا اظہار اچھا نہیں معلوم ہوا۔ فرمانے لگے کہ مجھے یہ حدیث بیان نہ کرنی چاہیے تھی۔ ان کو اپنا نیک عمل ظاہر کرنا برا معلوم ہوا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4128]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (4127) باب پر واپس اگلی حدیث (4129) →