بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 3441 — باب: اللہ تعالیٰ نے (سورۃ مریم میں) فرمایا ”(اس) کتاب میں مریم کا ذکر کر جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر ایک پورب رخ مکان میں چلی گئی“۔
کتب صحیح بخاری کتاب: انبیاء علیہم السلام کے بیان میں باب: اللہ تعالیٰ نے (سورۃ مریم میں) فرمایا ”(اس) کتاب میں مریم کا ذکر کر جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر ایک پورب رخ مکان میں چلی گئی“۔ حدیث 3441

Q3436 حوالہ جات (References)

نَبَذْنَاهُ أَلْقَيْنَاهُ. اعْتَزَلَتْ {شَرْقِيًّا} مِمَّا يَلِي الشَّرْقَ {فَأَجَاءَهَا} أَفْعَلْتُ مِنْ جِئْتُ، وَيُقَالُ أَلْجَأَهَا اضْطَرَّهَا. {تَسَّاقَطْ} تَسْقُطْ {قَصِيًّا} قَاصِيًا {فَرِيًّا} عَظِيمًا. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ نَسْيًا سورة مريم آية 23 لَمْ أَكُنْ شَيْئًا وَقَالَ غَيْرُهُ النِّسْيُ الْحَقِيرُ وَقَالَ أَبُو وَائِلٍ عَلِمَتْ مَرْيَمُ أَنَّ التَّقِيَّ ذُو نُهْيَةٍ حِينَ قَالَتْ إِنْ كُنْتَ تَقِيًّا سورة مريم آية 18 قَالَ وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْبَرَاءِ سَرِيًّا سورة مريم آية 24 نَهَرٌ صَغِيرٌ بِالسُّرْيَانِيَّةِ.
‏‏‏‏ لفظ «انتبذت» «نبذ» سے نکلا ہے جیسے یونس علیہ السلام کے قصے میں فرمایا «نبذناه» یعنی ہم نے ان کو ڈال دیا۔ «شرقيا‏» پورب رخ (یعنی مسجد سے یا ان کے گھر سے پورب کی طرف) «فأجاءها‏» کے معنی اس کو لاچار اور بے قرار کر دیا۔ «تساقط‏» گرے گا۔ «قصيا‏» دور۔ «فريا‏» بڑا یا برا۔ «نسيا‏» ناچیز۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ایسا ہی کہا۔ دوسروں نے کہا «نسى» کہتے ہیں حقیر چیز کو (یہ «فاتحه» سدی سے منقول ہے) ابووائل نے کہا کہ مریم یہ سمجھی کہ پرہیزگار وہی ہوتا ہے جو عقلمند ہوتا ہے۔ جب انہوں نے کہا (جبرائیل علیہ السلام کو ایک جوان مرد کی شکل میں دیکھ کر) اگر تو پرہیزگار ہے اللہ سے ڈرتا ہے۔ وکیع نے اسرائیل سے نقل کیا، انہوں نے ابواسحاق سے، انہوں نے براء بن عازب سے «سريا‏» سریانی زبان میں چھوٹی نہر کو کہتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ/حدیث: Q3436]
حدیث نمبر: 3441 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَكِّيُّ ، إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ ، الزُّهْرِيُّ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَكِّيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَا، وَاللَّهِ مَا، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِعِيسَى أَحْمَرُ وَلَكِنْ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ أَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ سَبْطُ الشَّعَرِ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ يَنْطِفُ رَأْسُهُ مَاءً أَوْ يُهَرَاقُ رَأْسُهُ مَاءً، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا، قَالُوا: ابْنُ مَرْيَمَ فَذَهَبْتُ أَلْتَفِتُ فَإِذَا رَجُلٌ أَحْمَرُ جَسِيمٌ جَعْدُ الرَّأْسِ أَعْوَرُ عَيْنِهِ الْيُمْنَى كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا، قَالُوا: هَذَا الدَّجَّالُ وَأَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا ابْنُ قَطَنٍ" قَالَ الزُّهْرِيُّ: رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ هَلَكَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے احمد بن محمد مکی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابراہیم بن سعد سے سنا، کہا کہ مجھ سے زہری نے بیان کیا، ان سے سالم نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ ہرگز نہیں۔ اللہ کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں یہ نہیں فرمایا تھا کہ وہ سرخ تھے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ میں نے خواب میں ایک مرتبہ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے اپنے کو دیکھا، اس وقت مجھے ایک صاحب نظر آئے جو گندمی رنگ لٹکے ہوئے بال والے تھے، دو آدمیوں کے درمیان ان کا سہارا لیے ہوئے اور سر سے پانی صاف کر رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ آپ ابن مریم علیہما السلام ہیں۔ اس پر میں نے انہیں غور سے دیکھا تو مجھے ایک اور شخص بھی دکھائی دیا جو سرخ، موٹا، سر کے بال مڑے ہوئے اور داہنی آنکھ سے کانا تھا، اس کی آنکھ ایسی دکھائی دیتی تھی جیسے اٹھا ہوا انار ہو، میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ تو فرشتوں نے بتایا کہ یہ دجال ہے۔ اس سے شکل و صورت میں ابن قطن بہت زیادہ مشابہ تھا۔ زہری نے کہا کہ یہ قبیلہ خزاعہ کا ایک شخص تھا جو جاہلیت کے زمانہ میں مر گیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ/حدیث: 3441]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (3440) باب پر واپس اگلی حدیث (3442) →