بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 3440 — باب: اللہ تعالیٰ نے (سورۃ مریم میں) فرمایا ”(اس) کتاب میں مریم کا ذکر کر جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر ایک پورب رخ مکان میں چلی گئی“۔
کتب صحیح بخاری کتاب: انبیاء علیہم السلام کے بیان میں باب: اللہ تعالیٰ نے (سورۃ مریم میں) فرمایا ”(اس) کتاب میں مریم کا ذکر کر جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر ایک پورب رخ مکان میں چلی گئی“۔ حدیث 3440

Q3436 حوالہ جات (References)

نَبَذْنَاهُ أَلْقَيْنَاهُ. اعْتَزَلَتْ {شَرْقِيًّا} مِمَّا يَلِي الشَّرْقَ {فَأَجَاءَهَا} أَفْعَلْتُ مِنْ جِئْتُ، وَيُقَالُ أَلْجَأَهَا اضْطَرَّهَا. {تَسَّاقَطْ} تَسْقُطْ {قَصِيًّا} قَاصِيًا {فَرِيًّا} عَظِيمًا. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ نَسْيًا سورة مريم آية 23 لَمْ أَكُنْ شَيْئًا وَقَالَ غَيْرُهُ النِّسْيُ الْحَقِيرُ وَقَالَ أَبُو وَائِلٍ عَلِمَتْ مَرْيَمُ أَنَّ التَّقِيَّ ذُو نُهْيَةٍ حِينَ قَالَتْ إِنْ كُنْتَ تَقِيًّا سورة مريم آية 18 قَالَ وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْبَرَاءِ سَرِيًّا سورة مريم آية 24 نَهَرٌ صَغِيرٌ بِالسُّرْيَانِيَّةِ.
‏‏‏‏ لفظ «انتبذت» «نبذ» سے نکلا ہے جیسے یونس علیہ السلام کے قصے میں فرمایا «نبذناه» یعنی ہم نے ان کو ڈال دیا۔ «شرقيا‏» پورب رخ (یعنی مسجد سے یا ان کے گھر سے پورب کی طرف) «فأجاءها‏» کے معنی اس کو لاچار اور بے قرار کر دیا۔ «تساقط‏» گرے گا۔ «قصيا‏» دور۔ «فريا‏» بڑا یا برا۔ «نسيا‏» ناچیز۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ایسا ہی کہا۔ دوسروں نے کہا «نسى» کہتے ہیں حقیر چیز کو (یہ «فاتحه» سدی سے منقول ہے) ابووائل نے کہا کہ مریم یہ سمجھی کہ پرہیزگار وہی ہوتا ہے جو عقلمند ہوتا ہے۔ جب انہوں نے کہا (جبرائیل علیہ السلام کو ایک جوان مرد کی شکل میں دیکھ کر) اگر تو پرہیزگار ہے اللہ سے ڈرتا ہے۔ وکیع نے اسرائیل سے نقل کیا، انہوں نے ابواسحاق سے، انہوں نے براء بن عازب سے «سريا‏» سریانی زبان میں چھوٹی نہر کو کہتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ/حدیث: Q3436]
حدیث نمبر: 3440 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ
وَأَرَانِي اللَّيْلَةَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ فِي الْمَنَامِ فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ كَأَحْسَنِ مَا يُرَى مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ تَضْرِبُ لِمَّتُهُ بَيْنَ مَنْكِبَيْهِ رَجِلُ الشَّعَرِ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى مَنْكِبَيْ رَجُلَيْنِ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا، فَقَالُوا: هَذَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ثُمَّ رَأَيْتُ رَجُلًا وَرَاءَهُ جَعْدًا قَطِطًا أَعْوَرَ الْعَيْنِ الْيُمْنَى كَأَشْبَهِ مَنْ رَأَيْتُ بِابْنِ قَطَنٍ وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى مَنْكِبَيْ رَجُلٍ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا، قَالُوا: الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ، تَابَعَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ.
ترجمہ: مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور میں نے رات کعبہ کے پاس خواب میں ایک گندمی رنگ کے آدمی کو دیکھا جو گندمی رنگ کے آدمیوں میں شکل کے اعتبار سے سب سے زیادہ حسین و جمیل تھا۔ اس کے سر کے بال شانوں تک لٹک رہے تھے، سر سے پانی ٹپک رہا تھا اور دونوں ہاتھ دو آدمیوں کے شانوں پر رکھے ہوئے وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے۔ میں نے پوچھا یہ کون بزرگ ہیں؟ تو فرشتوں نے بتایا کہ یہ مسیح ابن مریم ہیں۔ اس کے بعد میں نے ایک شخص کو دیکھا، سخت اور مڑے ہوئے بالوں والا جو داہنی آنکھ سے کانا تھا۔ اسے میں نے ابن قطن سے سب سے زیادہ شکل میں ملتا ہوا پایا، وہ بھی ایک شخص کے شانوں پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے ہوئے بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا۔ میں نے پوچھا، یہ کون ہیں؟ فرشتوں نے بتایا کہ یہ دجال ہے۔ اس روایت کی متابعت عبیداللہ نے نافع سے کی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ/حدیث: 3440]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (3439) باب پر واپس اگلی حدیث (3441) →