بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 3271 — باب: ابلیس اور اس کی فوج کا بیان۔
کتب صحیح بخاری کتاب: اس بیان میں کہ مخلوق کی پیدائش کیونکر شروع ہوئی باب: ابلیس اور اس کی فوج کا بیان۔ حدیث 3271

Q3268 حوالہ جات (References)

وَقَالَ مُجَاهِدٌ: وَيُقْذَفُونَ سورة الصافات آية 8 يُرْمَوْنَ دُحُورًا سورة الصافات آية 9 مَطْرُودِينَ وَاصِبٌ سورة الصافات آية 9 دَائِمٌ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:مَدْحُورًا سورة الأعراف آية 18 مَطْرُودًا يُقَالُ مَرِيدًا سورة النساء آية 117 مُتَمَرِّدًا بَتَّكَهُ قَطَّعَهُ وَاسْتَفْزِزْ سورة الإسراء آية 64 اسْتَخِفَّ بِخَيْلِكَ سورة الإسراء آية 64 الْفُرْسَانُ وَالرَّجْلُ الرَّجَّالَةُ وَاحِدُهَا رَاجِلٌ مِثْلُ صَاحِبٍ وَصَحْبٍ وَتَاجِرٍ وَتَجْرٍ لأَحْتَنِكَنَّ سورة الإسراء آية 62 لَأَسْتَأْصِلَنَّ قَرِينٌ سورة الصافات آية 51 شَيْطَانٌ.
‏‏‏‏ اور مجاہد نے کہا (سورۃ والصافات میں) لفظ «يقذفون‏» کا معنی پھینکے جاتے ہیں (اسی سورۃ میں) «دحورا‏» کے معنی دھتکارے ہوئے کے ہیں۔ اسی سورۃ میں لفظ «واصب‏» کا معنی ہمیشہ کا ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا (سورۃ الاعراف میں) لفظ «مدحورا‏» کا معنی دھتکارا ہوا، مردود (اور سورۃ نساء میں) «مريدا‏» کا معنی متمرد و شریر کے ہیں۔ اسی سورۃ میں «فليبتكن» «بتك» سے نکلا ہے۔ یعنی چیرا، کاٹا۔ (سورۃ بنی اسرائیل میں) «واستفزز‏» کا معنی ان کو ہلکا کر دے۔ اسی سورۃ میں «خيل» کا معنی سوار اور «رجل» یعنی پیادے۔ یعنی «رجالة» اس کا مفرد «راجل» جیسے «صحب» کا مفرد «صاحب» اور «تجر» کا مفرد «تاجر» اسی سورۃ میں لفظ «لأحتنكن‏» کا معنی جڑ سے اکھاڑ دوں گا۔ سورۃ والصافات میں لفظ «قرين‏» کے معنی شیطان کے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: Q3268]
حدیث نمبر: 3271 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، هَمَّامٌ ، مَنْصُورٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَمَا إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ، وَقَالَ: بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا فَرُزِقَا وَلَدًا لَمْ يَضُرَّهُ الشَّيْطَانُ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے منصور نے ان سے سالم بن ابی الجعد نے، ان سے کریب نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، جب کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس آتا ہے اور یہ دعا پڑتا ہے «بسم الله اللهم جنبنا الشيطان،‏‏‏‏ وجنب الشيطان ما رزقتنا‏.‏» اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، اے اللہ! ہم سے شیطان کو دور رکھ اور جو کچھ ہمیں تو دے (اولاد) اس سے بھی شیطان کو دور رکھ۔ پھر اگر ان کے یہاں بچہ پیدا ہوتا ہے تو شیطان اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3271]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (3270) باب پر واپس اگلی حدیث (3272) →