بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ
کتاب: اس بیان میں کہ مخلوق کی پیدائش کیونکر شروع ہوئی
Sahih al-Bukhari
Home کتب صحیح بخاری کتاب: اس بیان میں کہ مخلوق کی پیدائش کیونکر شروع ہوئی
# باب احادیث دیکھیں
1
باب: اور اللہ پاک نے فرمایا ”اللہ ہی ہے جس نے مخلوق کو پہلی دفعہ پیدا کیا، اور وہی پھر دوبارہ (موت کے بعد) زندہ کرے گا اور یہ (دوبارہ زندہ کرنا) تو اس پر اور بھی آسان ہے“۔
بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ} :
Q3190 – 3194
2
باب: سات زمینوں کا بیان۔
بَابُ مَا جَاءَ فِي سَبْعِ أَرَضِينَ:
Q3195 – 3198
3
باب: ستاروں کا بیان۔
بَابٌ في النُّجُومِ:
Q3199 – 2
4
باب: (سورۃ الرحمن کی اس آیت کی تفسیر کہ) سورج اور چاند دونوں حساب سے چلتے ہیں۔
بَابُ صِفَةِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ:
Q3199 – 3204
5
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الاعراف میں) یہ ارشاد کہ ”وہ اللہ ہی ہے جو اپنی رحمت (بارش) سے پہلے خوشخبری دینے والی ہواؤں کو بھیجتا ہے“۔
بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِهِ: {وَهْوَ الَّذِي أَرْسَلَ الرِّيَاحَ نُشُرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ} :
Q3205 – 3206
6
باب: فرشتوں کا بیان۔
بَابُ ذِكْرِ الْمَلاَئِكَةِ:
Q3207 – 3223
7
باب: اس حدیث کے بیان میں کہ جب ایک تمہارا (جہری نماز میں سورۃ فاتحہ کے ختم پر باآواز بلند) آمین کہتا ہے تو فرشتے بھی آسمان پر (زور سے) آمین کہتے ہیں اور اس طرح دونوں کی زبان سے ایک ساتھ (با آواز بلند) آمین نکلتی ہے تو بندے کے گزرے ہوئے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
بَابُ إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ آمِينَ. وَالْمَلاَئِكَةُ فِي السَّمَاءِ، فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ:
3224 – 3239
8
باب: جنت کا بیان اور یہ بیان کہ جنت پیدا ہو چکی ہے۔
بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ وَأَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ:
Q3240 – 3256
9
باب: جنت کے دروازوں کا بیان۔
بَابُ صِفَةِ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ:
Q3257 – 3257
10
باب: دوزخ کا بیان اور یہ بیان کہ دوزخ بن چکی ہے، وہ موجود ہے۔
بَابُ صِفَةِ النَّارِ وَأَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ:
Q3258 – 3267
11
باب: ابلیس اور اس کی فوج کا بیان۔
بَابُ صِفَةِ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ:
Q3268 – 3295
12
باب: جنوں کا بیان اور ان کو ثواب اور عذاب کا ہونا۔
بَابُ ذِكْرِ الْجِنِّ وَثَوَابِهِمْ وَعِقَابِهِمْ:
Q3296 – 3296
13
باب: اور اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الجن میں) فرمانا ”اور جب ہم نے آپ کی طرف جنوں کے ایک گروہ کو بھیج دیا“۔
بَابُ قَوْلِ اللَّهِ جَلَّ وَعَزَّ: {وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ} إِلَى قَوْلِهِ: {أُولَئِكَ فِي ضَلاَلٍ مُبِينٍ} :
Q3297 – 2
14
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ البقرہ میں) ارشاد ”اور ہم نے زمین پر ہر طرح کے جانور پھیلا دئیے“۔
بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَبَثَّ فِيهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ} :
Q3297 – 3299
15
باب: مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہیں جن کو چرانے کے لیے پہاڑوں کی چوٹیوں پر پھرتا رہے۔
بَابُ خَيْرُ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ:
3300 – 3313
16
باب: پانچ بہت ہی برے (انسان کو تکلیف دینے والے) جانور ہیں، جن کو حرم میں بھی مار ڈالنا درست ہے۔
بَابُ خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ:
3314 – 3319
17
باب: اس حدیث کا بیان جب مکھی پانی یا کھانے میں گر جائے تو اس کو ڈبو دے کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے میں شفاء ہوتی ہے۔
بَابُ إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي شَرَابِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْمِسْهُ، فَإِنَّ فِي إِحْدَى جَنَاحَيْهِ دَاءً وَفِي الأُخْرَى شِفَاءً:
3320 – 3325