بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 3201 — باب: (سورۃ الرحمن کی اس آیت کی تفسیر کہ) سورج اور چاند دونوں حساب سے چلتے ہیں۔
کتب صحیح بخاری کتاب: اس بیان میں کہ مخلوق کی پیدائش کیونکر شروع ہوئی باب: (سورۃ الرحمن کی اس آیت کی تفسیر کہ) سورج اور چاند دونوں حساب سے چلتے ہیں۔ حدیث 3201

Q3199 حوالہ جات (References)

قَالَ مُجَاهِدٌ: كَحُسْبَانِ الرَّحَى، وَقَالَ غَيْرُهُ: بِحِسَابٍ وَمَنَازِلَ لَا يَعْدُوَانِهَا حُسْبَانٌ جَمَاعَةُ حِسَابٍ مِثْلُ شِهَابٍ وَشُهْبَانٍ ضُحَاهَا سورة النازعات آية 29: ضَوْءُهَا أَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ سورة يس آية 40: لَا يَسْتُرُ ضَوْءُ أَحَدِهِمَا ضَوْءَ الْآخَرِ، وَلَا يَنْبَغِي لَهُمَا ذَلِكَ سَابِقُ النَّهَارِ سورة يس آية 40: يَتَطَالَبَانِ حَثِيثَيْنِ نَسْلَخُ نُخْرِجُ أَحَدَهُمَا مِنَ الْآخَرِ وَنُجْرِي كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا وَاهِيَةٌ وَهْيُهَا تَشَقُّقُهَا أَرْجَائِهَا مَا لَمْ يَنْشَقَّ مِنْهَا فَهُمْ عَلَى حَافَتَيْهَا كَقَوْلِكَ عَلَى أَرْجَاءِ الْبِئْرِ وَأَغْطَشَ سورة النازعات آية 29 وَ جَنَّ سورة الأنعام آية 76 أَظْلَمَ، وَقَالَ الْحَسَنُ كُوِّرَتْ سورة التكوير آية 1: تُكَوَّرُ حَتَّى يَذْهَبَ ضَوْءُهَا وَاللَّيْلِ وَمَا وَسَقَ سورة الانشقاق آية 17: جَمَعَ مِنْ دَابَّةٍ اتَّسَقَ سورة الانشقاق آية 18: اسْتَوَى بُرُوجًا سورة الحجر آية 16: مَنَازِلَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ الْحَرُورُ بِالنَّهَارِ مَعَ الشَّمْسِ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَرُؤْبَةُ الْحَرُورُ بِاللَّيْلِ وَالسَّمُومُ بِالنَّهَارِ يُقَالُ يُولِجُ يُكَوِّرُ وَلِيجَةً سورة التوبة آية 16 كُلُّ شَيْءٍ أَدْخَلْتَهُ فِي شَيْءٍ.
‏‏‏‏ مجاہد نے کہا یعنی چکی کی طرح گھومتے ہیں اور دوسرے لوگوں نے یوں کہا یعنی حساب سے مقررہ منزلوں میں پھرتے ہیں، زیادہ نہیں بڑھ سکتے۔ لفظ «حسبان» «حساب» کی جمع ہے۔ جیسے لفظ «شهاب» کی جمع «شهبان‏.‏» ہے اور سورۃ والشمس میں جو لفظ «ضحاها‏» آیا ہے۔ «ضحى» روشنی کو کہتے ہیں اور سورۃ یٰسٓ میں جو آیا ہے کہ سورج چاند کو نہیں پا سکا، یعنی ایک کی روشنی دوسرے کو ماند نہیں کر سکتی نہ ان کو یہ بات سزاوار ہے اور اسی سورۃ میں جو الفاظ «ولا الليل سابق النهار‏» ہیں ان کا مطلب یہ کہ دن اور رات ہر ایک دوسرے کے طالب ہو کر لپکے جا رہے ہیں اور اسی سورۃ میں لفظ «انسلخ» کا معنی یہ ہے کہ دن کو رات سے اور رات کو دن سے ہم نکال لیتے ہیں اور سورۃ الحاقہ میں جو «واهية» کا لفظ ہے۔ «وهي» کے منی پھٹ جانا اور اسی سورۃ میں جو یہ ہے «أرجائها» یعنی فرشتے آسمانوں کے کناروں پر ہوں گے جب تک وہ پھٹے گا نہیں۔ جیسے کہتے ہیں وہ کنویں کے کنارے پر اور سورۃ والنازعات میں جو لفظ «أغطش‏» اور سورۃ الانعام میں لفظ «جن‏» ہے ان کے معنی اندھیری کے ہیں۔ یعنی اندھیاری کی اندھیاری ہوئی اور امام حسن بصریٰ نے کہا کہ سورۃ اذالشمس میں «كورت‏» کا جو لفظ ہے اس کا معنی یہ ہے جب لپیٹ کر تاریک کر دیا جائے گا اور سورۃ انشقت میں جو «وما وسق‏» کا لفظ ہے اس کے معنی جو اکٹھا کرے۔ اسی سورۃ میں «اتسق‏» کا معنی سیدھا ہوا، اور سورۃ الفرقان میں «بروجا‏» کا لفظ «بروج‏» سورج اور چاند کی منزلوں کو کہتے ہیں اور سورۃ فاطر میں جو «حرور» کا لفظ ہے اس کے معنی دھوپ کی گرمی کے ہیں۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا، «حرور» رات کی گرمی اور «سموم» دن کی گرمی۔ اور سورۃ فاطر میں جو «يولج» کا لفظ ہے اس کے معنی لپیٹتا ہے اندر داخل کرتا ہے اور سورۃ التوبہ میں جو «وليجة‏» کا لفظ ہے اس کے معنی اندر گھسا ہوا یعنی راز دار دوست۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: Q3199]
حدیث نمبر: 3201 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٌو ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يُخْبِرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ قاسم بن محمد بن ابی بکر نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ سورج اور چاند میں کسی کی موت و حیات کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہیں۔ اس لیے جب تم ان کو دیکھو تو نماز پڑھا کرو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3201]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (3200) باب پر واپس اگلی حدیث (3202) →