بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 2687 — باب: مشکلات کے وقت قرعہ اندازی کرنا۔
کتب صحیح بخاری کتاب: گواہوں کے متعلق مسائل کا بیان باب: مشکلات کے وقت قرعہ اندازی کرنا۔ حدیث 2687

Q2686 حوالہ جات (References)

وَقَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: إِذْ يُلْقُونَ أَقْلامَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ سورة آل عمران آية 44، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ اقْتَرَعُوا فَجَرَتِ الْأَقْلَامُ مَعَ الْجِرْيَةِ، وَعَالَ قَلَمُ زَكَرِيَّاءَ الْجِرْيَةَ، فَكَفَلَهَا زكَرِيَّاءُ، وَقَوْلِهِ فَسَاهَمَ أَقْرَعَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِينَ سورة الصافات آية 141 مِنَ الْمَسْهُومِينَ، وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: عَرَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ الْيَمِينَ، فَأَسْرَعُوا، فَأَمَرَ أَنْ يُسْهِمَ بَيْنَهُمْ أَيُّهُمْ يَحْلِفُ.
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد «إذ يلقون أقلامهم أيهم يكفل مريم» جب وہ اپنی قلمیں ڈالنے لگے (قرعہ اندازی کے لیے تاکہ) فیصلہ کر سکیں کہ مریم کی کفالت کون کرے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے (آیت مذکورہ کی تفسیر میں فرمایا) کہ جب سب لوگوں نے (نہر اردن میں) اپنے اپنے قلم ڈالے، تو تمام قلم پانی کے بہاؤ کے ساتھ بہہ گئے، لیکن زکریا علیہ السلام کا قلم اس بہاؤ میں اوپر آ گیا۔ اس لیے انہوں نے ہی مریم علیہا السلام کی تربیت اپنے ذمہ لی اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد «فساهم» کے معنی ہیں پس انہوں نے قرعہ ڈالا۔ «فكان من المدحضين» (میں «مدحضين» کے معنی ہیں) «من المسهومين» یعنی قرعہ انہیں کے نام پر نکلا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (کسی مقدمہ میں مدعیٰ علیہ ہونے کی بنا پر) کچھ لوگوں سے قسم کھانے کے لیے فرمایا، تو وہ سب (ایک ساتھ) آگے بڑھے۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان میں قرعہ ڈالنے کے لیے حکم فرمایا تاکہ فیصلہ ہو کہ سب سے پہلے قسم کون آدمی کھائے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشَّهَادَاتِ/حدیث: Q2686]
حدیث نمبر: 2687 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، خَارِجَةُ بْنُ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أُمَّ الْعَلَاءِ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ،" أَنَّ أُمَّ الْعَلَاءِ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِمْ قَدْ بَايَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ طَارَ لَهُ سَهْمُهُ فِي السُّكْنَى حِينَ أَقْرَعَتِ الْأَنْصَارُ سُكْنَى الْمُهَاجِرِينَ، قَالَتْ أُمُّ الْعَلَاءِ: فَسَكَنَ عِنْدَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ، فَاشْتَكَى، فَمَرَّضْنَاهُ حَتَّى إِذَا تُوُفِّيَ وَجَعَلْنَاهُ فِي ثِيَابِهِ، دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ أَبَا السَّائِبِ، فَشَهَادَتِي عَلَيْكَ لَقَدْ أَكْرَمَكَ اللَّهُ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَمَا يُدْرِيكِ أَنَّ اللَّهَ أَكْرَمَهُ؟ فَقُلْتُ: لَا أَدْرِي، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَّا عُثْمَانُ فَقَدْ جَاءَهُ وَاللَّهِ الْيَقِينُ، وَإِنِّي لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ، وَاللَّهِ مَا أَدْرِي، وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ مَا يُفْعَلُ بِهِ، قَالَتْ: فَوَاللَّهِ لَا أُزَكِّي أَحَدًا بَعْدَهُ أَبَدًا، وَأَحْزَنَنِي ذَلِكَ، قَالَتْ: فَنِمْتُ فَأُرِيتُ لِعُثْمَانَ عَيْنًا تَجْرِي، فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: ذَاكِ عَمَلُهُ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی زہری سے، ان سے خارجہ بن زید انصاری نے بیان کیا کہ ان کی رشتہ دار ایک عورت ام علاء نامی نے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیعت بھی کی تھی، انہیں خبر دی کہ انصار نے مہاجرین کو اپنے یہاں ٹھہرانے کے لیے قرعے ڈالے تو عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا قیام ہمارے حصے میں آیا۔ ام علاء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پھر عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ہمارے گھر ٹھہرے اور کچھ مدت بعد وہ بیمار پڑ گئے۔ ہم نے ان کی تیمارداری کی مگر کچھ دن بعد ان کی وفات ہو گئی۔ جب ہم انہیں کفن دے چکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے۔ میں نے کہا، ابوالسائب! (عثمان رضی اللہ عنہ کی کنیت) تم پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، میری گواہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے یہاں تمہاری ضرور عزت اور بڑائی کی ہو گی۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ بات تمہیں کیسے معلوم ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی عزت اور بڑائی کی ہو گی۔ میں نے عرض کیا، میرے ماں اور باپ آپ پر فدا ہوں، مجھے یہ بات کسی ذریعہ سے معلوم نہیں ہوئی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، عثمان کا جہاں تک معاملہ ہے، تو اللہ گواہ ہے کہ ان کی وفات ہو چکی اور میں ان کے بارے میں اللہ سے خیر ہی کی امید رکھتا ہوں، لیکن اللہ کی قسم! اللہ کے رسول ہونے کے باوجود مجھے بھی یہ علم نہیں کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ ہو گا۔ ام علاء رضی اللہ عنہا کہنے لگیں، اللہ کی قسم! اب اس کے بعد میں کسی شخص کی پاکی کبھی بیان نہیں کروں گی۔ اس سے مجھے رنج بھی ہوا (کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے میں نے ایک ایسی بات کہی جس کا مجھے حقیقی علم نہیں تھا) انہوں نے کہا (ایک دن) میں سو رہی تھی، میں نے خواب میں عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے ایک بہتا ہوا چشمہ دیکھا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے خواب بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ان کا عمل (نیک) تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشَّهَادَاتِ/حدیث: 2687]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (2686) باب پر واپس اگلی حدیث (2688) →