بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 2679 — باب: کیوں کر قسم لی جائے۔
کتب صحیح بخاری کتاب: گواہوں کے متعلق مسائل کا بیان باب: کیوں کر قسم لی جائے۔ حدیث 2679

Q2678 حوالہ جات (References)

قَالَ تَعَالَى: يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ سورة التوبة آية 62، وَقَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ جَاءُوكَ يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ إِنْ أَرَدْنَا إِلا إِحْسَانًا وَتَوْفِيقًا سورة النساء آية 62وَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ إِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ سورة التوبة آية 56 وَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ لِيُرْضُوكُمْ فَيُقْسِمَانِ بِاللَّهِ لَشَهَادَتُنَا أَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا سورة المائدة آية 107، يُقَالُ بِاللَّهِ، وَتَاللَّهِ، وَوَاللَّهِ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَرَجُلٌ حَلَفَ بِاللَّهِ كَاذِبًا بَعْدَ الْعَصْرِ، وَلَا يُحْلَفُ بِغَيْرِ اللَّهِ.
‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ نے (سورۃ التوبہ میں) فرمایا «يحلفون بالله لكم» وہ لوگ آپ کے سامنے اللہ کی قسم کھاتے ہیں، تم کو راضی کرنے کے لیے۔ اور اللہ تعالیٰ نے (سورۃ نساء میں) فرمایا «ثم جاءوك يحلفون بالله إن أردنا إلا إحسانا وتوفيقا» پھر تیرے پاس اللہ کی قسم کھاتے آتے ہیں کہ ہماری نیت تو بھلائی اور ملاپ کی تھی۔ قسم میں یوں کہا جائے «بالله»، «تالله»، «والله» (اللہ کی قسم) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اور وہ شخص جو اللہ کی جھوٹی قسم عصر کے بعد کھاتا ہے اور اللہ کے سوا کسی کی قسم نہ کھائیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشَّهَادَاتِ/حدیث: Q2678]
حدیث نمبر: 2679 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، جُوَيْرِيَةُ ، نَافِعٌ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، قَالَ: ذَكَرَ نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ أَوْ لِيَصْمُتْ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے جویریہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ نافع نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر کسی کو قسم کھانی ہی ہے تو اللہ تعالیٰ ہی کی قسم کھائے، ورنہ خاموش رہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشَّهَادَاتِ/حدیث: 2679]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (2678) باب پر واپس اگلی حدیث (2680) →