بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 2668 — باب: دیوانی اور فوجداری دونوں مقدموں میں مدعیٰ علیہ سے قسم لینا۔
کتب صحیح بخاری کتاب: گواہوں کے متعلق مسائل کا بیان باب: دیوانی اور فوجداری دونوں مقدموں میں مدعیٰ علیہ سے قسم لینا۔ حدیث 2668

Q2668 حوالہ جات (References)

وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: شَاهِدَاكَ أَوْ يَمِينُهُ، وَقَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ شُبْرُمَةَ، كَلَّمَنِي أَبُو الزِّنَادِ فِي شَهَادَةِ الشَّاهِدِ وَيَمِينِ الْمُدَّعِي، فَقُلْتُ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ فَإِنْ لَمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَنْ تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى سورة البقرة آية 282، قُلْتُ: إِذَا كَانَ يُكْتَفَى بِشَهَادَةِ شَاهِدٍ وَيَمِينِ الْمُدَّعِي، فَمَا تَحْتَاجُ أَنْ تُذْكِرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى مَا كَانَ يَصْنَعُ بِذِكْرِ هَذِهِ الْأُخْرَى.
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (مدعی سے) فرمایا کہ تم اپنے دو گواہ پیش کرو ورنہ مدعیٰ علیہ کی قسم پر فیصلہ ہو گا۔ قتیبہ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے (کوفہ کے قاضی) ابن شبرمہ نے بیان کیا کہ (مدینہ کے قاضی) ابوالزناد نے مجھ سے مدعی کی قسم کے ساتھ صرف ایک گواہ کی گواہی کے (نافذ ہو جانے کے) بارے میں گفتگو کی تو میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «واستشهدوا شهيدين من رجالكم فإن لم يكونا رجلين فرجل وامرأتان ممن ترضون من الشهداء أن تضل إحداهما فتذكر إحداهما الأخرى» اور تم اپنے مردوں میں سے دو گواہ کر لیا کرو پھر اگر دونوں مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ہوں، جن گواہوں سے کہ تم مطمئن ہو، تاکہ اگر کوئی ایک ان دو میں سے بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلا دے۔ میں نے کہا کہ اگر مدعی کی قسم کے ساتھ صرف ایک گواہ کی گواہی کافی ہوتی تو پھر یہ فرمانے کی کیا ضرورت تھی کہ اگر ایک بھول جائے تو دوسری اس کو یاد دلا دے۔ دوسری عورت کے یاد دلانے سے فائدہ ہی کیا ہے؟ [صحيح البخاري/كِتَاب الشَّهَادَاتِ/حدیث: Q2668]
حدیث نمبر: 2668 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو نُعَيْمٍ ، نَافِعُ بْنُ عُمَرَ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: كَتَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْيَمِينِ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے نافع بن عمر نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لکھا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدعیٰ علیہ کے لیے قسم کھانے کا فیصلہ کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشَّهَادَاتِ/حدیث: 2668]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (2667) باب پر واپس اگلی حدیث (2669) →