بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 2657 — باب: اندھے آدمی کی گواہی اور اس کے معاملہ کا بیان اور اس کا اپنا نکاح کرنا یا کسی اور کا نکاح کروانا یا اس کی خرید و فروخت۔
کتب صحیح بخاری کتاب: گواہوں کے متعلق مسائل کا بیان باب: اندھے آدمی کی گواہی اور اس کے معاملہ کا بیان اور اس کا اپنا نکاح کرنا یا کسی اور کا نکاح کروانا یا اس کی خرید و فروخت۔ حدیث 2657

Q2655 حوالہ جات (References)

وَأَجَازَ شَهَادَتَهُ قَاسِمٌ، وَالْحَسَنُ، وَابْنُ سِيرِينَ، وَالزُّهْرِيُّ، وَعَطَاءٌ، وَقَالَ الشَّعْبِيُّ: تَجُوزُ شَهَادَتُهُ إِذَا كَانَ عَاقِلًا، وَقَالَ الْحَكَمُ: رُبَّ شَيْءٍ تَجُوزُ فِيهِ، وَقَالَ الزُّهْرِيُّ: أَرَأَيْتَ ابْنَ عَبَّاسٍ لَوْ شَهِدَ عَلَى شَهَادَةٍ أَكُنْتَ تَرُدُّهُ، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَبْعَثُ رَجُلًا إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ أَفْطَرَ وَيَسْأَلُ عَنِ الْفَجْرِ، فَإِذَا قِيلَ لَهُ طَلَعَ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ: اسْتَأْذَنْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَعَرَفَتْ صَوْتِي، قَالَتْ: سُلَيْمَانُ ادْخُلْ، فَإِنَّكَ مَمْلُوكٌ مَا بَقِيَ عَلَيْكَ شَيْءٌ، وَأَجَازَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ شَهَادَةَ امْرَأَةٍ مُنْتَقِبَةٍ.
قاسم، حسن بصری، ابن سیرین، زہری اور عطاء نے بھی اندھے کی گواہی جائز رکھی ہے۔ امام شعبی نے کہا کہ اگر وہ ذہین اور سمجھدار ہے تو اس کی گواہی جائز ہے۔ حکم نے کہا کہ بہت سی چیزوں میں اس کی گواہی جائز ہو سکتی ہے۔ زہری نے کہا اچھا بتاؤ اگر ابن عباس رضی اللہ عنہما کسی معاملہ میں گواہی دیں تو تم اسے رد کر سکتے ہو؟ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما (جب نابینا ہو گئے تھے تو) سورج غروب ہونے کے وقت ایک شخص کو بھیجتے (تاکہ آبادی سے باہر جا کر دیکھ آئیں کہ سورج پوری طرح غروب ہو گیا یا نہیں اور جب وہ آ کر غروب ہونے کی خبر دیتے تو) آپ افطار کرتے تھے۔ اسی طرح آپ طلوع فجر کے متعلق پوچھتے اور جب آپ سے کہا جاتا کہ ہاں فجر طلوع ہو گئی تو دور رکعت (سنت فجر) نماز پڑھتے۔ سلیمان بن یسار رحمہ اللہ نے کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضری کے لیے میں نے ان سے اجازت چاہی تو انہوں نے میری آواز پہچان لی اور کہا سلیمان اندر آ جاؤ۔ کیونکہ تم غلام ہو۔ جب تک تم پر (مال کتابت میں سے) کچھ بھی باقی رہ جائے گا۔ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے نقاب پوش عورت کی گواہی جائز قرار دی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشَّهَادَاتِ/حدیث: Q2655]
حدیث نمبر: 2657 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
زِيَادُ بْنُ يَحْيَى ، حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ ، أَيُّوبُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" قَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةٌ، فَقَالَ لِي أَبِي مَخْرَمَةُ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَيْهِ عَسَى أَنْ يُعْطِيَنَا مِنْهَا شَيْئًا، فَقَامَ أَبِي عَلَى الْبَابِ فَتَكَلَّمَ، فَعَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ قَبَاءٌ وَهُوَ يُرِيهِ مَحَاسِنَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: خَبَأْتُ هَذَا لَكَ، خَبَأْتُ هَذَا لَكَ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے زیاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن وردان نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، عبداللہ بن ابی ملیکہ سے اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاں چند قبائیں آئیں تو مجھ سے میرے باپ مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں چلو۔ ممکن ہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان میں سے کوئی مجھے بھی عنایت فرمائیں۔ میرے والد (نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر پہنچ کر) دروازے پر کھڑے ہو گئے اور باتیں کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی آواز پہچان لی اور باہر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک قباء بھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کی خوبیاں بیان کرنے لگے، اور فرمایا میں نے یہ تمہارے ہی لیے الگ کر رکھی تھی، میں نے یہ تمہارے ہی لیے الگ کر رکھی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشَّهَادَاتِ/حدیث: 2657]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (2656) باب پر واپس اگلی حدیث (2658) →