بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 2649 — باب: زنا کی تہمت لگانے والے اور چور اور زانی کی گواہی کا بیان۔
کتب صحیح بخاری کتاب: گواہوں کے متعلق مسائل کا بیان باب: زنا کی تہمت لگانے والے اور چور اور زانی کی گواہی کا بیان۔ حدیث 2649

Q2648 حوالہ جات (References)

وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: وَلا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا وَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ {4} إِلا الَّذِينَ تَابُوا سورة النور آية 3-4، وَجَلَدَ عُمَرُ أَبَا بَكْرَةَ، وَشِبْلَ بْنَ مَعْبَدٍ، وَنَافِعًا بِقَذْفِ الْمُغِيرَةِ، ثُمَّ اسْتَتَابَهُمْ، وَقَالَ: مَنْ تَابَ قَبِلْتُ شَهَادَتَهُ، وَأَجَازَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُتْبَةَ، وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، وَطَاوُسٌ، وَمُجَاهِدٌ، وَالشَّعْبِيُّ، وَعِكْرِمَةُ، وَالزُّهْرِيُّ، وَمُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ، وَشُرَيْحٌ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ، وَقَالَ أَبُو الزِّنَادِ: الْأَمْرُ عِنْدَنَا بِالْمَدِينَةِ، إِذَا رَجَعَ الْقَاذِفُ عَنْ قَوْلِهِ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ قُبِلَتْ شَهَادَتُهُ، وَقَالَ الشَّعْبِيُّ، وَقَتَادَةُ: إِذَا أَكْذَبَ نَفْسَهُ جُلِدَ وَقُبِلَتْ شَهَادَتُهُ، وَقَالَ الثَّوْرِيُّ: إِذَا جُلِدَ الْعَبْدُ، ثُمَّ أُعْتِقَ جَازَتْ شَهَادَتُهُ، وَإِنِ اسْتُقْضِيَ الْمَحْدُودُ فَقَضَايَاهُ جَائِزَةٌ، وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ الْقَاذِفِ وَإِنْ تَابَ، ثُمّ قَالَ: لَا يَجُوزُ نِكَاحٌ بِغَيْرِ شَاهِدَيْنِ، فَإِنْ تَزَوَّجَ بِشَهَادَةِ مَحْدُودَيْنِ جَازَ، وَإِنْ تَزَوَّجَ بِشَهَادَةِ عَبْدَيْنِ لَمْ يَجُزْ، وَأَجَازَ شَهَادَةَ الْمَحْدُودِ وَالْعَبْدِ وَالْأَمَةِ لِرُؤْيَةِ هِلَالِ رَمَضَانَ، وَكَيْفَ تُعْرَفُ تَوْبَتُهُ وَقَدْ نَفَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّانِيَ سَنَةً، وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَلَامِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَصَاحِبَيْهِ حَتَّى مَضَى خَمْسُونَ لَيْلَةً.
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ نے (سورۃ النور میں) فرمایا «ولا تقبلوا لهم شهادة أبدا وأولئك هم الفاسقون * إلا الذين تابوا‏» ایسے تہمت لگانے والوں کی گواہی کبھی نہ مانو، یہی لوگ تو بدکار ہیں، مگر جو توبہ کر لیں۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکرہ، شبل بن معبد (ان کے ماں جائے بھائی) اور نافع بن حارث کو حد لگائی مغیرہ پر تہمت رکھنے کی وجہ سے۔ پھر ان سے توبہ کرائی اور کہا جو کوئی توبہ کر لے اس کی گواہی قبول ہو گی۔ اور عبداللہ بن عتبہ، عمر بن عبدالعزیز، سعید بن جبیر، طاؤس، مجاہد، شعبی، عکرمہ، زہری، محارب بن دثار، شریح اور معاویہ بن قرہ نے بھی توبہ کے بعد اس کی گواہی کو جائز رکھا ہے اور ابوالزناد نے کہا ہمارے نزدیک مدینہ طیبہ میں تو یہ حکم ہے جب «قاذف» اپنے قول سے پھر (مکر) جائے اور استغفار کرے تو اس کی گواہی قبول ہو گی اور شعبی اور قتادہ نے کہا جب وہ اپنے آپ کو جھٹلائے اور اس کو حد پڑ جائے تو اس کی گواہی قبول ہو گی۔ اور سفیان ثوری نے کہا جب غلام کو حد قذف لگ جائے پھر اس کے بعد وہ آزاد ہو جائے تو اس کی گواہی قبول ہو گی۔ اور جس کو حد قذف لگی ہو اگر وہ قاضی بنایا جائے تو اس کا فیصلہ نافذ ہو گا۔ اور بعض لوگ (امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ) کہتے ہیں قاذف کی گواہی قبول نہ ہو گی گو وہ توبہ کر لے۔ پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ بغیر دو گواہوں کے نکاح درست نہیں ہوتا اور اگر حد قذف لگے ہوئے گواہوں کی گواہی سے نکاح کیا تو نکاح درست ہو گا۔ اگر دو غلاموں کی گواہی سے کیا تو درست نہ ہو گا اور ان ہی لوگوں نے حد قذف پڑے ہوئے لوگوں کی اور لونڈی غلام کی گواہی رمضان کے چاند کے لیے درست رکھی ہے۔ اور اس باب میں یہ بیان ہے کہ «قاذف» کی توبہ کیوں کر معلوم ہو گی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تو زانی کو ایک سال کے لیے جلا وطن کیا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اور ان کے دو ساتھیوں سے منع کر دیا کوئی بات نہ کرے۔ پچاس راتیں اسی طرح گزریں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشَّهَادَاتِ/حدیث: Q2648]
حدیث نمبر: 2649 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، اللَّيْثُ ، عُقَيْلٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّهُ أَمَرَ فِيمَنْ زَنَى، وَلَمْ يُحْصَنْ بِجَلْدِ مِائَةٍ، وَتَغْرِيبِ عَامٍ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا عقیل سے، وہ ابن شہاب سے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان لوگوں کے لیے جو شادی شدہ نہ ہوں اور زنا کریں۔ یہ حکم دیا تھا کہ انہیں سو کوڑے لگائے جائیں اور ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا جائے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشَّهَادَاتِ/حدیث: 2649]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (2648) باب پر واپس اگلی حدیث (2650) →