بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 1998 — باب: ایام تشریق کے روزے رکھنا۔
کتب صحیح بخاری کتاب: روزے کے مسائل کا بیان باب: ایام تشریق کے روزے رکھنا۔ حدیث 1998
حدیث نمبر: 1998 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، غُنْدَرٌ ، شُعْبَةُ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عِيسى بْنِ أَبِي لَيْلَى ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عِيسى بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَعَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَا:" لَمْ يُرَخَّصْ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ أَنْ يُصَمْنَ، إِلَّا لِمَنْ لَمْ يَجِدِ الْهَدْيَ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عیسیٰ سے سنا، انہوں نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے (نیز زہری نے اس حدیث کو) سالم سے بھی سنا، اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا (عائشہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہم) دونوں نے بیان کیا کہ کسی کو ایام تشریق میں روزہ رکھنے کی اجازت نہیں مگر اس کے لیے جسے قربانی کا مقدور نہ ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: 1998]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (1997) باب پر واپس اگلی حدیث (1999) →