بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 1964 — باب: پے در پے ملا کر روزہ رکھنا اور جنہوں نے یہ کہا کہ رات میں روزہ نہیں ہو سکتا۔
کتب صحیح بخاری کتاب: روزے کے مسائل کا بیان باب: پے در پے ملا کر روزہ رکھنا اور جنہوں نے یہ کہا کہ رات میں روزہ نہیں ہو سکتا۔ حدیث 1964

Q1961 حوالہ جات (References)

لِقَوْلِهِ تَعَالَى: ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ سورة البقرة آية 187، وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ، رَحْمَةً لَهُمْ وَإِبْقَاءً عَلَيْهِمْ، وَمَا يُكْرَهُ مِنَ التَّعَمُّقِ.
‏‏‏‏ (ابوالعالیہ) تابعی سے ایسا منقول ہے انہوں نے کہا اللہ نے فرمایا روزہ رات تک پورا کرو (جب رات آئی تو روزہ کھل گیا یہ ابن ابی شیبہ نے نکالا) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے (سورۃ البقرہ میں) فرمایا پھر تم روزہ رات تک پورا کرو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صوم وصال سے (اللہ تعالیٰ کے حکم سے) منع فرمایا، امت پر رحمت اور شفقت کے خیال سے تاکہ ان کی طاقت قائم رہے، اور یہ کہ عبادت میں سختی کرنا مکروہ ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: Q1961]
حدیث نمبر: 1964 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدٌ ، عَبْدَةُ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدٌ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ رَحْمَةً لَهُمْ"، فَقَالُوا: إِنَّكَ تُوَاصِلُ، قَالَ: إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ إِنِّي يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: لَمْ يَذْكُرْ عُثْمَانُ رَحْمَةً لَهُمْ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ اور محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبدہ نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے باپ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پے در پے روزہ سے منع کیا تھا۔ امت پر رحمت و شفقت کے خیال سے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تو وصال کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، میں تمہاری طرح نہیں ہوں مجھے میرا رب کھلاتا اور پلاتا ہے۔ عثمان نے (اپنی روایت میں) امت پر رحمت و شفقت کے خیال سے کے الفاظ ذکر نہیں کئے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: 1964]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (1963) باب پر واپس اگلی حدیث (1965) →