حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَهُوَ صَائِمٌ فَلَمَّا غَرَبَتْ الشَّمْسُ قَالَ لِبَعْضِ الْقَوْمِ يَا فُلَانُ قُمْ فَاجْدَحْ لَنَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَمْسَيْتَ قَالَ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَوْ أَمْسَيْتَ قَالَ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا قَالَ إِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا قَالَ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُمْ فَشَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ إِذَا رَأَيْتُمْ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے اسحاق واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن شیبانی نے، ان سے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ (غزوہ فتح جو رمضان میں ہوا) سفر میں تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزہ سے تھے۔ جب سورج غروب ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک صحابی (بلال رضی اللہ عنہ) سے فرمایا کہ اے فلاں! میرے لیے اٹھ کے ستو گھول، انہوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! آپ تھوڑی دیر اور ٹھہرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اتر کر ہمارے لیے ستو گھول، اس پر انہوں نے کہا یا رسول اللہ! آپ تھوڑی دیر اور ٹھہرتے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر وہی حکم دیا کہ اتر کر ہمارے لیے ستو گھول لیکن ان کا اب بھی خیال تھا کہ ابھی دن باقی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس مرتبہ پھر فرمایا کہ اتر کر ہمارے لیے ستو گھول چنانچہ اترے اور ستو انہوں نے گھول دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پیا۔ پھر فرمایا کہ جب تم یہ دیکھ لو کہ رات اس مشرق کی طرف سے آ گئی تو روزہ دار کو افطار کر لینا چاہئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: 1955]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة