بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 1952 — باب: اگر کوئی شخص مر جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں۔
کتب صحیح بخاری کتاب: روزے کے مسائل کا بیان باب: اگر کوئی شخص مر جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں۔ حدیث 1952

Q1952 حوالہ جات (References)

وَقَالَ الْحَسَنُ: إِنْ صَامَ عَنْهُ ثَلَاثُونَ رَجُلًا يَوْمًا وَاحِدًا جَازَ.
‏‏‏‏ اور حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا کہ اگر اس کی طرف سے (رمضان کے تیس روزوں کے بدلے) تیس آدمی ایک دن روزہ رکھ لیں تو جائز ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: Q1952]
حدیث نمبر: 1952 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ ، أَبِي ، عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٍو ، يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، ابْنِ أَبِي جَعْفَرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ، صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ"، تَابَعَهُ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرٍو، وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي جَعْفَرٍ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے محمد بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن موسیٰ ابن اعین نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ان کے والد نے بیان کیا، ان سے عمرو بن حارث نے، ان سے عبیداللہ بن ابی جعفر نے، ان سے محمد بن جعفر نے کہا، ان سے عروہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی شخص مر جائے اور اس کے ذمہ روزے واجب ہوں تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھ دے، موسیٰ کے ساتھ اس حدیث کو ابن وہب نے بھی عمرو سے روایت کیا اور یحییٰ بن ایوب سختیانی نے بھی ابن ابی جعفر سے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: 1952]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (1951) باب پر واپس اگلی حدیث (1953) →