بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 1935 — باب: جان بوجھ کر اگر رمضان میں کسی نے جماع کیا؟
کتب صحیح بخاری کتاب: روزے کے مسائل کا بیان باب: جان بوجھ کر اگر رمضان میں کسی نے جماع کیا؟ حدیث 1935

Q1935 حوالہ جات (References)

وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ وَلَا مَرَضٍ، لَمْ يَقْضِهِ صِيَامُ الدَّهْرِ وَإِنْ صَامَهُ، وَبِهِ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَالشَّعْبِيُّ، وَابْنُ جُبَيْرٍ، وَإِبْرَاهِيمُ، وَقَتَادَةُ، وَحَمَّادٌ: يَقْضِي يَوْمًا مَكَانَهُ.
‏‏‏‏ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً یوں مروی ہے کہ اگر کسی نے رمضان میں کسی عذر اور مرض کے بغیر ایک دن کا بھی روزہ نہیں رکھا تو ساری عمر کے روزے بھی اس کا بدلہ نہ ہوں گے اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بھی یہی قول ہے اور سعید بن مسیب، شعبی اور ابن جبیر اور ابراہیم اور قتادہ اور حماد رحمہم اللہ نے بھی فرمایا کہ اس کے بدلہ میں ایک دن روزہ رکھنا چاہئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: Q1935]
حدیث نمبر: 1935 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ ، يَزِيدَ بْنَ هَارُونَ ، يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ ، مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ بْنِ خُوَيْلِدٍ ، عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، سَمِعَ يَزِيدَ بْنَ هَارُونَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ أَخْبَرَهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ بْنِ خُوَيْلِدٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ:" إِنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّهُ احْتَرَقَ، قَالَ: مَا لَكَ؟ قَالَ: أَصَبْتُ أَهْلِي فِي رَمَضَانَ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِكْتَلٍ يُدْعَى الْعَرَقَ، فَقَالَ: أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ؟ قَالَ: أَنَا، قَالَ: تَصَدَّقْ بِهَذَا".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم نے یزید بن ہارون سے سنا، ان سے یحییٰ نے (جو سعید کے صاحبزادے ہیں) کہا، انہیں عبدالرحمٰن بن قاسم نے خبر دی، انہیں محمد بن جعفر بن زبیر بن عوام بن خویلد نے اور انہیں عباد بن عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، آپ نے کہا کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں دوزخ میں جل چکا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہوئی؟ اس نے کہا کہ رمضان میں میں نے (روزے کی حالت میں) اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی، تھوڑی دیر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں (کھجور کا) ایک تھیلہ جس کا نام عرق تھا، پیش کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ دوزخ میں جلنے والا شخص کہاں ہے؟ اس نے کہا کہ حاضر ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ لے تو اسے خیرات کر دے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: 1935]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (1934) باب پر واپس اگلی حدیث (1936) →