بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 1929 — باب: روزہ دار کا روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا۔
کتب صحیح بخاری کتاب: روزے کے مسائل کا بیان باب: روزہ دار کا روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا۔ حدیث 1929

Q1928 حوالہ جات (References)

وَقَالَ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ: إِنْ نَظَرَ فَأَمْنَى يُتِمُّ صَوْمَهُ.
‏‏‏‏ اور جابر بن زید نے کہا اگر روزہ دار نے شہوت سے دیکھا اور منی نکل آئی تو وہ اپنا روزہ پورا کر لے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: Q1928]
حدیث نمبر: 1929 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى ، هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ ، أُمِّهَا
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَتْ:" بَيْنَمَا أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمِيلَةِ، إِذْ حِضْتُ، فَانْسَلَلْتُ، فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حِيضَتِي، فَقَالَ: مَا لَكِ، أَنَفِسْتِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَدَخَلْتُ مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ، وَكَانَتْ هِيَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلَانِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، وَكَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعیدقطان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن ابی عبداللہ نے، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے ابوسلمہ نے، ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی زینب نے اور ان سے ان کی والدہ (ام سلمہ رضی اللہ عنہا) نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک چادر میں (لیٹی ہوئی) تھی کہ مجھے حیض آ گیا۔ اس لیے میں چپکے سے نکل آئی اور اپنا حیض کا کپڑا پہن لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہوئی؟ کیا حیض آ گیا ہے؟ میں نے کہا ہاں، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اسی چادر میں چلی گئی اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل (جنابت) کیا کرتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے سے ہونے کے باوجود ان کا بوسہ لیتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: 1929]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (1928) باب پر واپس اگلی حدیث (1930) →