بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 1912 — باب: عید کے دونوں مہینے کم نہیں ہوتے۔
کتب صحیح بخاری کتاب: روزے کے مسائل کا بیان باب: عید کے دونوں مہینے کم نہیں ہوتے۔ حدیث 1912

Q1912 حوالہ جات (References)

قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: قَالَ إِسْحَاقُ: وَإِنْ كَانَ نَاقِصًا فَهُوَ تَمَامٌ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ: لَا يَجْتَمِعَانِ كِلَاهُمَا نَاقِصٌ.
‏‏‏‏ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اسحاق بن راہویہ نے (اس کی تشریح میں) کہا کہ اگر یہ کم بھی ہوں پھر بھی (اجر کے اعتبار سے) تیس دن کا ثواب ملتا ہے محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے کہا (مطلب یہ ہے) کہ دونوں ایک سال میں ناقص (انتیس انتیس دن کے) نہیں ہو سکتے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: Q1912]
حدیث نمبر: 1912 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُسَدَّدٌ ، مُعْتَمِرٌ ، إِسْحَاقَ بْنَ سُوَيْدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبِيهِ ، مُسَدَّدٌ ، مُعْتَمِرٌ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وَحَدَّثَنِي مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" شَهْرَانِ لَا يَنْقُصَانِ: شَهْرَا عِيدٍ رَمَضَانُ، وَذُو الْحَجَّةِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اسحاق سے سنا، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھے مسدد نے خبر دی، ان سے معتمر نے بیان کیا، ان سے خالد حذاء نے بیان کیا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی اور انہیں ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دونوں مہینے ناقص نہیں رہتے۔ مراد رمضان اور ذی الحجہ کے دونوں مہینے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: 1912]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (1911) باب پر واپس اگلی حدیث (1913) →