بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
بالوں میں کنگھی کرنے کا بیان
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں بالوں میں کنگھی کرنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1729 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَبَا قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيَّ
حَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيَّ ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنّ " لِي جُمَّةً أَفَأُرَجِّلُهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ وَأَكْرِمْهَا" . فَكَانَ أَبُو قَتَادَةَ رُبَّمَا دَهَنَهَا فِي الْيَوْمِ مَرَّتَيْنِ لِمَا قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَأَكْرِمْهَا"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ سیدنا ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہا: میرے بال کندھوں تک ہیں، ان میں کنگھی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! کنگھی کر اور بالوں کی عزت کر۔ سیدنا ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کبھی کبھی ایک دن میں دوبار تیل ڈالتے، اس وجہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ بالوں کی عزت کر۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1729]
تخریج الحدیث
«مرفوع ضعيف، وأخرجه النسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 5235، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 9262، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 671، فواد عبدالباقي نمبر: 51 - كتابُ الشَّعَرِ-ح: 6»
حدیث نمبر: 1730 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَدَخَلَ رَجُلٌ ثَائِرَ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ أَنِ اخْرُجْ كَأَنَّهُ يَعْنِي إِصْلَاحَ شَعَرِ رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ، فَفَعَلَ الرَّجُلُ ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَيْسَ هَذَا خَيْرًا مِنْ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدُكُمْ ثَائِرَ الرَّأْسِ كَأَنَّهُ شَيْطَانٌ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں ایک شخص جس کے سر اور داڑھی کے بال پریشان تھے آیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کو اشارہ کیا، یعنی مسجد سے باہر جا اور بالوں کو درست کر کے آ۔ وہ شخص درست کر کے پھر آیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ اچھا نہیں اس صورت سے کہ آئے کوئی تم میں سے پریشان سر، جیسے شیطان۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1730]
تخریج الحدیث
«مرفوع ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «شعب الايمان» برقم: 6462
شیخ سلیم ہلالی کہتے ہیں کہ یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ ضعیف ہے۔، فواد عبدالباقي نمبر: 51 - كتابُ الشَّعَرِ-ح: 7»