بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جس کو نظر لگ جائے اس کو وضو کرانے کا بیان
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں جس کو نظر لگ جائے اس کو وضو کرانے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1705 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، أَبَاهُ ، أَبِي سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ ، يَقُولُ: اغْتَسَلَ أَبِي سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ بِالْخَرَّارِ فَنَزَعَ جُبَّةً كَانَتْ عَلَيْهِ وَعَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ يَنْظُرُ، قَالَ: وَكَانَ سَهْلٌ رَجُلًا أَبْيَضَ حَسَنَ الْجِلْدِ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ: مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ وَلَا جِلْدَ عَذْرَاءَ، قَالَ: فَوُعِكَ سَهْلٌ مَكَانَهُ وَاشْتَدَّ وَعْكُهُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُخْبِرَ أَنَّ سَهْلًا وُعِكَ، وَأَنَّهُ غَيْرُ رَائِحٍ مَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ سَهْلٌ بِالَّذِي كَانَ مِنْ أَمْرِ عَامِرٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ؟ أَلَّا بَرَّكْتَ إِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ تَوَضَّأْ لَهُ"، فَتَوَضَّأَ لَهُ عَامِرٌ، فَرَاحَ سَهْلٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
سیدنا ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ (یعنی اسعد) کہتے تھے: میرے باپ نے غسل کیا خرار میں (ایک مقام ہے قریب جحفہ کے)، تو انہوں نے اپنا جبہ اتارا، اور سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ دیکھ رہے تھے، اور سیدنا سہل رضی اللہ عنہ خوش رنگ تھے، سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے دیکھ کر کہا: میں نے تو آپ سا کوئی آدمی نہیں دیکھا، اور نہ کسی بکر (کنواری) عورت کا پوست، اسی وقت سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کو بخار آنے لگا اور سخت بخار آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کوئی شخص آیا اور بیان کیا کہ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کو بخار آگیا ہے، اب وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نہ جائیں گے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کا کہنا بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سن کر فرمایا: کیا مار ڈالے گا ایک تم میں سے اپنے بھائی کو؟ (اور سیدنا عامر رضی اللہ عنہ کو کہا) کیوں تو نے «بَارَكَ اللّٰهُ» نہیں کہا؟ (یعنی برکت دے اللہ جل جلالہُ، یا ماشاء الله لاقوة الا بالله جیسے دوسری روایت میں ہے)، نظر لگنا سچ ہے سہل کے لئے وضو کر۔ پھر سیدنا عامر رضی اللہ عنہ نے سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کے واسطے وضو کیا (دوسری حدیث میں اس کا بیان آتا ہے)، بعد اس کے سیدنا سہل رضی اللہ عنہ اچھے ہوگئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ گئے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1705]
تخریج الحدیث
«مرفوع صحيح، وأخرجه ابن ماجه فى «سننه» برقم: 3509، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6105، 6106، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 5790، 5791، 5792، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 7570، 7571، 7572، 9965، 9966، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 19677، 19678، وأحمد فى «مسنده» برقم: 16076، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 19766، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 24061، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 2894، فواد عبدالباقي نمبر: 50 - كِتَابُ الْعَيْنِ-ح: 1»
حدیث نمبر: 1706 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
ابْنِ شِهَابٍ ، أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، أَنَّهُ قَالَ: رَأَى عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ يَغْتَسِلُ، فَقَالَ: مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ وَلَا جِلْدَ مُخْبَأَةٍ، فَلُبِطَ سَهْلٌ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ؟ وَاللَّهِ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَقَالَ:" هَلْ تَتَّهِمُونَ لَهُ أَحَدًا؟" قَالُوا: نَتَّهِمُ عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ، قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامِرًا فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ، وَقَالَ: " عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ؟ أَلَّا بَرَّكْتَ اغْتَسِلْ لَهُ"، فَغَسَلَ عَامِرٌ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، وَمِرْفَقَيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ، وَأَطْرَافَ رِجْلَيْهِ وَدَاخِلَةَ إِزَارِهِ فِي قَدَحٍ، ثُمَّ صُبَّ عَلَيْهِ فَرَاحَ سَهْلٌ مَعَ النَّاسِ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ (یعنی اسعد) سے روایت ہے کہ سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو نہاتے ہوئے دیکھ لیا تو کہا: میں نے آپ کا سا کوئی آدمی نہیں دیکھا، نہ کسی پردہ نشین (بالکل باہر نہ نکلنے والی) عورت کی ایسی کھال دیکھی۔ یہ کہتے ہی سیدنا سہل رضی اللہ عنہ اپنی جگہ سے (بیمار ہوکر) گر پڑے۔ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آکر بیان کیا اور کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کچھ سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کی خبر بھی لیتے ہیں، قسم اللہ کی! وہ اپنا سر بھی نہیں اٹھاتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری دانست میں کس نے اس کو نظر لگائی؟ انہوں نے کہا: سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور اس پر غصے ہوئے، اور فرمایا: کیوں قتل کرتا ہے ایک تم میں سے اپنے بھائی کو؟ تو نے «بَارَكَ اللّٰهُ» کیوں نہ کہا؟ اب غسل کر اس کے واسطے۔ سیدنا عامر رضی اللہ عنہ نے اپنے منہ، اور ہاتھ، اور کہنیاں، اور گھٹنے، اور پاؤں کے کنارے، اور تہ بند کے نیچے کا بدن پانی سے دھو کر اس پانی کو ایک برتن میں جمع کیا، وہ پانی سیدنا سہل رضی اللہ عنہ پر ڈالا گیا، سیدنا سہل رضی اللہ عنہ اچھے ہو گئے اور لوگوں کے ساتھ چلے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1706]
تخریج الحدیث
«مرفوع صحيح، وأخرجه النسائي فى «الكبریٰ» برقم: 7618، 7619، 9965، 9966، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6105، 6106، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 5790، 5791، 5792، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3509، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 19677، 19678، والبيهقي فى «دلائل النبوة» ‏‏‏‏ برقم: 136/6، وأحمد فى «مسنده» برقم: 16227، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 19766، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 24061، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 2894، فواد عبدالباقي نمبر: 50 - كِتَابُ الْعَيْنِ-ح: 2»