بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

موطا امام مالک (روایۃ یحیی)

حدیث نمبر: 1706 — جس کو نظر لگ جائے اس کو وضو کرانے کا بیان
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں جس کو نظر لگ جائے اس کو وضو کرانے کا بیان حدیث 1706
حدیث نمبر: 1706 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
ابْنِ شِهَابٍ ، أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، أَنَّهُ قَالَ: رَأَى عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ يَغْتَسِلُ، فَقَالَ: مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ وَلَا جِلْدَ مُخْبَأَةٍ، فَلُبِطَ سَهْلٌ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ؟ وَاللَّهِ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَقَالَ:" هَلْ تَتَّهِمُونَ لَهُ أَحَدًا؟" قَالُوا: نَتَّهِمُ عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ، قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامِرًا فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ، وَقَالَ: " عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ؟ أَلَّا بَرَّكْتَ اغْتَسِلْ لَهُ"، فَغَسَلَ عَامِرٌ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، وَمِرْفَقَيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ، وَأَطْرَافَ رِجْلَيْهِ وَدَاخِلَةَ إِزَارِهِ فِي قَدَحٍ، ثُمَّ صُبَّ عَلَيْهِ فَرَاحَ سَهْلٌ مَعَ النَّاسِ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ (یعنی اسعد) سے روایت ہے کہ سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو نہاتے ہوئے دیکھ لیا تو کہا: میں نے آپ کا سا کوئی آدمی نہیں دیکھا، نہ کسی پردہ نشین (بالکل باہر نہ نکلنے والی) عورت کی ایسی کھال دیکھی۔ یہ کہتے ہی سیدنا سہل رضی اللہ عنہ اپنی جگہ سے (بیمار ہوکر) گر پڑے۔ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آکر بیان کیا اور کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کچھ سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کی خبر بھی لیتے ہیں، قسم اللہ کی! وہ اپنا سر بھی نہیں اٹھاتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری دانست میں کس نے اس کو نظر لگائی؟ انہوں نے کہا: سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور اس پر غصے ہوئے، اور فرمایا: کیوں قتل کرتا ہے ایک تم میں سے اپنے بھائی کو؟ تو نے «بَارَكَ اللّٰهُ» کیوں نہ کہا؟ اب غسل کر اس کے واسطے۔ سیدنا عامر رضی اللہ عنہ نے اپنے منہ، اور ہاتھ، اور کہنیاں، اور گھٹنے، اور پاؤں کے کنارے، اور تہ بند کے نیچے کا بدن پانی سے دھو کر اس پانی کو ایک برتن میں جمع کیا، وہ پانی سیدنا سہل رضی اللہ عنہ پر ڈالا گیا، سیدنا سہل رضی اللہ عنہ اچھے ہو گئے اور لوگوں کے ساتھ چلے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1706]
تخریج الحدیث
«مرفوع صحيح، وأخرجه النسائي فى «الكبریٰ» برقم: 7618، 7619، 9965، 9966، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6105، 6106، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 5790، 5791، 5792، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3509، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 19677، 19678، والبيهقي فى «دلائل النبوة» ‏‏‏‏ برقم: 136/6، وأحمد فى «مسنده» برقم: 16227، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 19766، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 24061، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 2894، فواد عبدالباقي نمبر: 50 - كِتَابُ الْعَيْنِ-ح: 2»
← پچھلی حدیث (1705) باب پر واپس اگلی حدیث (1707) →