بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جن صورتوں میں ہاتھ نہیں کاٹا جاتا ان کا بیان
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: چوری کے بیان میں جن صورتوں میں ہاتھ نہیں کاٹا جاتا ان کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 1574 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، أَنَّ عَبْدًا سَرَقَ وَدِيًّا مِنْ حَائِطِ رَجُلٍ فَغَرَسَهُ فِي حَائِطِ سَيِّدِهِ، فَخَرَجَ صَاحِبُ الْوَدِيِّ يَلْتَمِسُ وَدِيَّهُ، فَوَجَدَهُ، فَاسْتَعْدَى عَلَى الْعَبْدِ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، فَسَجَنَ مَرْوَانُ الْعَبْدَ وَأَرَادَ قَطْعَ يَدِهِ، فَانْطَلَقَ سَيِّدُ الْعَبْدِ إِلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ، وَالْكَثَرُ الْجُمَّارُ" . فَقَالَ الرَّجُلُ: فَإِنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ أَخَذَ غُلَامًا لِي وَهُوَ يُرِيدُ قَطْعَهُ، وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ تَمْشِيَ مَعِيَ إِلَيْهِ فَتُخْبِرَهُ بِالَّذِي سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَشَى مَعَهُ رَافِعٌ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، فَقَالَ: أَخَذْتَ غُلَامًا لِهَذَا؟ فَقَالَ: نَعَمْ. فَقَالَ: فَمَا أَنْتَ صَانِعٌ بِهِ؟ قَالَ: أَرَدْتُ قَطْعَ يَدِهِ. فَقَالَ لَهُ رَافِعٌ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ"، فَأَمَرَ مَرْوَانُ بِالْعَبْدِ، فَأُرْسِلَ
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت محمد بن یحییٰ بن حبان سے روایت ہے کہ ایک غلام نے ایک شخص کے باغ میں سے کھجور کا پودا چرا کر اپنے مولیٰ کے باغ میں لاکر لگا دیا، پودے والا اپنا پودا ڈھونڈنے نکلا، اس نے پالیا اور مروان بن حکم کے پاس غلام کی شکایت کی، مروان نے غلام کو بلا کر قید کیا اور اس کا ہاتھ کاٹنا چاہا، اس غلام کا مولی رافع بن خدیج کے پاس گیا اور ان سے یہ حال کہا۔ رافع نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے تھے کہ نہیں کاٹا جائے گا ہاتھ پھل میں، نہ پودے میں۔ وہ شخص بولا: مروان نے میرے غلام کو پکڑا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹنا چاہتا ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ چلیے اور مروان سے اس حدیث کو بیان کر دیجیے، رافع اس شخص کے ساتھ مروان کے پاس گئے اور پوچھا: کیا تو نے اس شخص کے غلام کو پکڑا ہے؟ مروان نے کہا: ہاں۔ رافع نے پوچھا: اس غلام کے ساتھ کیا کرے گا؟ مروان نے کہا ہاتھ کاٹوں گا۔ رافع نے کہا: میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے فرماتے تھے کہ پھل اور پودے کی چوری میں ہاتھ نہ کاٹا جائے گا۔ مروان نے یہ سن کر حکم دیا کہ اس غلام کو چھوڑ دو۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ السَّرَقَةِ/حدیث: 1574]
تخریج الحدیث
«مرفوع صحيح، وأخرجه أبو داود فى «سننه» برقم: 4388، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1449، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4963، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2593، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2350، 2351، 2352، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4466، وأحمد فى «مسنده» برقم: 15907، والحميدي فى «مسنده» برقم: 411، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 18916، فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 32»
حدیث نمبر: 1575 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
ابْنِ شِهَابٍ ، السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عُمَرُ
حَدَّثَنِي، عَنْ حَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَضْرَمِيِّ جَاءَ بِغُلَامٍ لَهُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ لَهُ: اقْطَعْ يَدَ غُلَامِي هَذَا، فَإِنَّهُ سَرَقَ. فَقَالَ لَهُ عُمَرُ :" مَاذَا سَرَقَ؟" فَقَالَ: سَرَقَ مِرْآةً لِامْرَأَتِي ثَمَنُهَا سِتُّونَ دِرْهَمًا. فَقَالَ عُمَرُ: " أَرْسِلْهُ، فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَطْعٌ، خَادِمُكُمْ سَرَقَ مَتَاعَكُمْ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت سائب بن یزید سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمرو بن حضرمی اپنے ایک غلام کو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے لے کر آیا اور کہا: میرے اس غلام کا ہاتھ کاٹا جائے، اس نے چوری کی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا چرایا؟ وہ بولا: میری بیوی کا آئینہ چرایا جس کی قیمت ساٹھ درہم تھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: چھوڑ دو اس کو، اس کا ہاتھ نہ کا ٹا جائے گا، تمہارا خادم تھا تمہارا مال چرایا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ السَّرَقَةِ/حدیث: 1575]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17303، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 5189، والدارقطني فى «سننه» برقم: 3412، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 18866، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 29161، فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 33»
حدیث نمبر: 1576 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
ابْنِ شِهَابٍ ، زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ أُتِيَ بِإِنْسَانٍ قَدِ اخْتَلَسَ مَتَاعًا، فَأَرَادَ قَطْعَ يَدِهِ، فَأَرْسَلَ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ يَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ : " لَيْسَ فِي الْخُلْسَةِ قَطْعٌ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
ابن شہاب سے روایت ہے کہ مروان بن حکم کے پاس ایک شخص آیا جو کسی کا مال اُچک لے گیا تھا، مروان نے اس کا ہاتھ کاٹنا چاہا، پھر سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص کو بھیجا یہ مسئلہ پوچھنے کو۔ انہوں نے کہا: اُچکّے کا ہاتھ نہ کاٹا جائے گا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ السَّرَقَةِ/حدیث: 1576]
تخریج الحدیث
«موقوف ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17296، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 5186، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 18850، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 29255، فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 34»
حدیث نمبر: 1577 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَمْرَةَ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، أَنَّهُ أَخَذَ نَبَطِيًّا قَدْ سَرَقَ خَوَاتِمَ مِنْ حَدِيدٍ فَحَبَسَهُ لِيَقْطَعَ يَدَهُ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَاةً لَهَا، يُقَالُ لَهَا: أُمَيَّةُ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَجَاءَتْنِي وَأَنَا بَيْنَ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ، فَقَالَتْ: تَقُولُ لَكَ خَالَتُكَ عَمْرَةُ:" يَا ابْنَ أُخْتِي، أَخَذْتَ نَبَطِيًّا فِي شَيْءٍ يَسِيرٍ ذُكِرَ لِي، فَأَرَدْتَ قَطْعَ يَدِهِ". قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَتْ: فَإِنَّ عَمْرَةَ تَقُولُ لَكَ: " لَا قَطْعَ إِلَّا فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَأَرْسَلْتُ النَّبَطِيَّ .
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے ایک نبطی (نبط کا رہنے والا جو ایک قریہ ہے ملک عجم میں) کو پکڑا جس نے انگوٹھیاں لوہے کی چرائی تھیں، اور اس کو قید کیا ہاتھ کا ٹنے کے واسطے۔ عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے اپنی مولاۃ (آزاد لونڈی) کو جس کا نام اُمیہ تھا، ابوبکر کے پاس بھیجا، ابوبکر نے کہا: وہ مولاۃ میرے پاس چلی آئی اور میں لوگوں میں بیٹھا ہوا تھا، بولی: تمہاری خالہ عمرہ نے کہا ہے کہ اے میرے بھانجے! تو نے ایک نبطی کو پکڑا ہے تھوڑی چیز کے واسطے، اور تو چاہتا ہے اس کا ہاتھ کاٹنا۔ میں نے کہا: ہاں! اس نے کہا: عمرہ نے کہا ہے کہ قطع نہیں ہے مگر چوتھائی دینار کی مالیت میں، یا زیادہ میں۔ تو میں نے نبطی کو چھوڑ دیا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ السَّرَقَةِ/حدیث: 1577]
تخریج الحدیث
«مقطوع صحيح، انفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 35»