بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

موطا امام مالک (روایۃ یحیی)

حدیث نمبر: 1575 — جن صورتوں میں ہاتھ نہیں کاٹا جاتا ان کا بیان
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: چوری کے بیان میں جن صورتوں میں ہاتھ نہیں کاٹا جاتا ان کا بیان حدیث 1575
حدیث نمبر: 1575 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
ابْنِ شِهَابٍ ، السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عُمَرُ
حَدَّثَنِي، عَنْ حَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَضْرَمِيِّ جَاءَ بِغُلَامٍ لَهُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ لَهُ: اقْطَعْ يَدَ غُلَامِي هَذَا، فَإِنَّهُ سَرَقَ. فَقَالَ لَهُ عُمَرُ :" مَاذَا سَرَقَ؟" فَقَالَ: سَرَقَ مِرْآةً لِامْرَأَتِي ثَمَنُهَا سِتُّونَ دِرْهَمًا. فَقَالَ عُمَرُ: " أَرْسِلْهُ، فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَطْعٌ، خَادِمُكُمْ سَرَقَ مَتَاعَكُمْ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت سائب بن یزید سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمرو بن حضرمی اپنے ایک غلام کو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے لے کر آیا اور کہا: میرے اس غلام کا ہاتھ کاٹا جائے، اس نے چوری کی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا چرایا؟ وہ بولا: میری بیوی کا آئینہ چرایا جس کی قیمت ساٹھ درہم تھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: چھوڑ دو اس کو، اس کا ہاتھ نہ کا ٹا جائے گا، تمہارا خادم تھا تمہارا مال چرایا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ السَّرَقَةِ/حدیث: 1575]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17303، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 5189، والدارقطني فى «سننه» برقم: 3412، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 18866، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 29161، فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 33»
← پچھلی حدیث (1574) باب پر واپس اگلی حدیث (1576) →