بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
لعان والی عورت کے بچے اور ولد الزنا کی میراث کا بیان
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: ترکے کی تقسیم کے بیان میں لعان والی عورت کے بچے اور ولد الزنا کی میراث کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1492 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
عَنْ مَالِكٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ كَانَ يَقُولُ فِي وَلَدِ الْمُلَاعَنَةِ وَوَلَدِ الزِّنَا إِنَّهُ إِذَا مَاتَ وَرِثَتْهُ أُمُّهُ، حَقَّهَا فِي كِتَابِ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ. وَإِخْوَتُهُ لِأُمِّهِ حُقُوقَهُمْ، وَيَرِثُ الْبَقِيَّةَ، مَوَالِي أُمِّهِ. إِنْ كَانَتْ مَوْلَاةً. وَإِنْ كَانَتْ عَرَبِيَّةً، وَرِثَتْ حَقَّهَا، وَوَرِثَ إِخْوَتُهُ لِأُمِّهِ حُقُوقَهُمْ، وَكَانَ مَا بَقِيَ لِلْمُسْلِمِينَ.
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ عروہ بن زبیر کہتے تھے کہ لعان والی عورت کا لڑکا یا زنا کا لڑکا جب مر جائے تو اس کی ماں کتاب اللہ کے موافق اپنا حصّہ لے گی، اور جو اس کے مادری بھائی ہیں وہ بھی اپنا حصّہ لیں گے، باقی اس کی ماں کے موالی کو ملے گا اگر وہ آزاد کی ہوئی ہو، اور اگر عربیہ ہو تو بعد ماں اور بھائی بہنوں کے حصّے کے جو بچے گا وہ مسلمانوں کا حق ہوگا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْفَرَائِضِ/حدیث: 1492]
تخریج الحدیث
«مقطوع ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12496، فواد عبدالباقي نمبر: 27 - كِتَابُ الْفَرَائِضِ-ح: 16»
حدیث نمبر: 1493 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
قَالَ مَالِكٌ: وَبَلَغَنِي عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ مِثْلُ ذَلِكَ. وَعَلَى ذَلِكَ أَدْرَكْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا.
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے کہ سلیمان بن یسار سے بھی مجھے ایسا ہی پہنچا اور ہمارے شہر کے اہلِ علم کی یہی رائے ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْفَرَائِضِ/حدیث: 1493]
تخریج الحدیث
«فواد عبدالباقي نمبر: 27 - كِتَابُ الْفَرَائِضِ-ح: 16»