بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
دعوے کے فیصلے کا بیان
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: حکموں کے بیان میں دعوے کے فیصلے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1422 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
جَمِيلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُؤَذِّنِ ، عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ
قَالَ يَحْيَى: قَالَ مَالِك: عَنْ جَمِيلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُؤَذِّنِ ، أَنَّهُ كَانَ يَحْضُرُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ يَقْضِي بَيْنَ النَّاسِ، " فَإِذَا جَاءَهُ الرَّجُلُ يَدَّعِي عَلَى الرَّجُلِ حَقًّا نَظَرَ، فَإِنْ كَانَتْ بَيْنَهُمَا مُخَالَطَةٌ أَوْ مُلَابَسَةٌ، أَحْلَفَ الَّذِي ادُّعِيَ عَلَيْهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ، لَمْ يُحَلِّفْهُ".
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت جمیل بن عبدالرحمٰن حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس آیا کرتے تھے جب وہ فیصلہ کرتے تھے لوگوں کا، جو شخص کسی پر دعویٰ کرے، گو مدعی اور مدعا علیہ میں یک جائی اور تعلق اور ارتباط معلوم ہوتا تو مدعا علیہ سے حلف لیتے ورنہ حلف نہ لیتے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 1422]
تخریج الحدیث
«مقطوع حسن، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 21209، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 5981، والبخاري فى «تاريخ الكبير» برقم: 215/2، فواد عبدالباقي نمبر: 36 - كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ-ح: 8»