ابْنِ شِهَابٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَارِيَةٍ لَهُ سَوْدَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً، فَإِنْ كُنْتَ تَرَاهَا مُؤْمِنَةً، أُعْتِقُهَا؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَشْهَدِينَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟" قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ:" أَتَشْهَدِينَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ؟" قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: أَتُوقِنِينَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْتِقْهَا"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت ہے کہ ایک شخص انصاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کالی لونڈی لے کر آیا اور کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میرے اوپر ایک مسلمان بردہ آزاد کرنا واجب ہے، کیا میں اس کو آزاد کر دوں؟ اگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کہتے ہیں کہ یہ مؤمنہ ہے تو میں اسی کو آزاد کر دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس لونڈی سے فرمایا: ”کیا تو یقین کرتی ہے اس بات کا کہ نہیں ہے کوئی معبود سچا سوائے اللہ تعالیٰ کے۔“ وہ بولی: ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو یقین کرتی ہے اس بات کا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔“ وہ بولی: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو یقین کرتی ہے اس بات کا کہ مرنے کے بعد پھر جی اٹھیں گے۔“ بولی: ہاں۔ تب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو آزاد کر دے۔“ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْعِتْقِ وَالْوَلَاءِ/حدیث: 1275]
تخریج الحدیث
«مرفوع صحيح، وأخرجه أبو داود فى «سننه» برقم: 3284، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15302، وأحمد فى «مسنده» برقم: 15984، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 16814، فواد عبدالباقي نمبر: 38 - كِتَابُ الْعِتْقِ وَالْوَلَاءِ-ح: 9»