بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جو شکار مارے پرند چرند کا، اس کی جزاء کا بیان
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: حج کے بیان میں جو شکار مارے پرند چرند کا، اس کی جزاء کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 934 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
أَبِي الزُّبَيْرِ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ،" أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ " قَضَى فِي الضَّبُعِ بِكَبْشٍ، وَفِي الْغَزَالِ بِعَنْزٍ، وَفِي الْأَرْنَبِ بِعَنَاقٍ، وَفِي الْيَرْبُوعِ بِجَفْرَةٍ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت ابوزبیر مکی سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حکم کیا: بجو کے مارنے میں ایک مینڈھے کا، اور ہرن میں ایک بکری کا، اور خرگوش میں بکری کے بچے کا جو سال بھر کا ہو، اور جنگلی چوہے میں بکری کے چار ماہ کے بچے کا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 934]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 9987، 9988، 9989، 9990، 9992، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 3152، والدارقطني فى «سننه» برقم: 2546، 2549، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 203، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 8214، 8216، 8224، 8231، 8232، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 14154، 14628، 15861، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 3472، والشافعي فى «الاُم» ‏‏‏‏ برقم: 192/2، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 230»
حدیث نمبر: 935 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ قُرَيْرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عُمَرُ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ قُرَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْرَيْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي فَرَسَيْنِ نَسْتَبِقُ إِلَى ثُغْرَةِ ثَنِيَّةٍ، فَأَصَبْنَا ظَبْيًا وَنَحْنُ مُحْرِمَانِ فَمَاذَا تَرَى؟ فَقَالَ عُمَرُ لِرَجُلٍ إِلَى جَنْبِهِ:" تَعَالَ حَتَّى أَحْكُمَ أَنَا وَأَنْتَ"، قَالَ: فَحَكَمَا عَلَيْهِ بِعَنْزٍ فَوَلَّى الرَّجُلُ، وَهُوَ يَقُولُ: هَذَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَحْكُمَ فِي ظَبْيٍ حَتَّى دَعَا رَجُلًا، يَحْكُمُ مَعَهُ، فَسَمِعَ عُمَرُ قَوْلَ الرَّجُلِ، فَدَعَاهُ فَسَأَلَهُ:" هَلْ تَقْرَأُ سُورَةَ الْمَائِدَةِ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَهَلْ تَعْرِفُ هَذَا الرَّجُلَ الَّذِي حَكَمَ مَعِي؟" فَقَالَ: لَا، فَقَالَ:" لَوْ أَخْبَرْتَنِي أَنَّكَ تَقْرَأُ سُورَةَ الْمَائِدَةِ لَأَوْجَعْتُكَ ضَرْبًا"، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ فِي كِتَابِهِ: يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ سورة المائدة آية 95 وَهَذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس اور کہا کہ میں نے اپنے ساتھی کے ساتھ گھوڑے ڈالے، ایک تنگ گھاٹی میں، تو مارا ہم نے ہرن کو اور ہم دونوں احرام باندھے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو جو اِن کے پہلو میں بیٹھا تھا بلایا اور کہا: آؤ ہم تم مل کر حکم کر دیں، تو دونوں نے مل کر ایک بکری کا حکم کیا۔ وہ شخص پیٹھ موڑ کر چلا اور کہنے لگا: یہ امیر المؤمنین ہیں، ایک ہرن کا فیصلہ اکیلے نہ کر سکے جب تک ایک اور شخص کو اپنے ساتھ نہ بلایا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات سن لی، تو اس کو پکارا اور کہا: تو نے سورۂ مائدہ پڑھی ہے؟ وہ بولا: نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے: تو اس شخص کو پہچانتا ہے جس نے میرے ساتھ مل کر فیصلہ کیا؟ اس نے کہا: نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تو یہ کہتا کہ میں نے سورۂ مائدہ پڑھی ہے تو اس وقت میں تجھے مارتا، پھر کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اپنی کتاب میں: تجویز کردیں جزاء کو دو عادل تم میں سے، وہ ہدی ہو جو پہنچے مکہ میں۔ اور یہ شخص سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ہیں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 935]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم:8239، 8240، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 9966، 10109، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 3143، والشافعي فى «الاُم» ‏‏‏‏ برقم: 207/2، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 231»
حدیث نمبر: 936 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبَاهُ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ ، كَانَ يَقُولُ: " فِي الْبَقَرَةِ مِنَ الْوَحْشِ بَقَرَةٌ، وَفِي الشَّاةِ مِنَ الظِّبَاءِ شَاةٌ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ ان کے باپ حضرت عروہ کہتے تھے کہ نیل گائے میں ایک گائے لازم ہے، اور ہرن میں ایک بکری لازم ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 936]
تخریج الحدیث
«مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 9871، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 8212، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 14638، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 232»
حدیث نمبر: 937 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " فِي حَمَامِ مَكَّةَ إِذَا قُتِلَ شَاةٌ" .
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
سعید بن مسیّب سے روایت ہے، وہ کہتے تھے: مکہ کے کبوتر میں جب قتل کیا جائے تو ایک بکری لازم ہے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 937]
تخریج الحدیث
«مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10008، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 8272، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 13380، 13389، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 233»