بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
قصر کا بیان
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: حج کے بیان میں قصر کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 890 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
نَافِعٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ،" أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، كَانَ إِذَا أَفْطَرَ مِنْ رَمَضَانَ وَهُوَ يُرِيدُ الْحَجَّ، لَمْ يَأْخُذْ مِنْ رَأْسِهِ وَلَا مِنْ لِحْيَتِهِ شَيْئًا، حَتَّى يَحُجَّ" . قَالَ مَالِك: لَيْسَ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب رمضان کے روزوں سے فارغ ہوتے اور حج کا قصد ہوتا تو سر اور داڑھی کے بال نہ لیتے یہاں تک کہ حج کرتے۔
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: یہ امر سب لوگوں پر واجب نہیں ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 890]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 8947، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 2777، والشافعي فى «الاُم» ‏‏‏‏ برقم: 253/7، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 186»
حدیث نمبر: 891 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
نَافِعٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ،" أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، كَانَ إِذَا حَلَقَ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ أَخَذَ مِنْ لِحْيَتِهِ وَشَارِبِهِ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب حلق کرتے حج یا عمرہ میں تو اپنی داڑھی اور مونچھ کے بال لیتے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 891]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 9498، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 2997 والشافعي فى «الاُم» ‏‏‏‏ برقم: 253/7، والشافعي فى «المسنده» برقم: 573/1، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 187»
حدیث نمبر: 892 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، الْقَاسِمُ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، فَقَالَ: إِنِّي أَفَضْتُ وَأَفَضْتُ مَعِي بِأَهْلِي، ثُمَّ عَدَلْتُ إِلَى شِعْبٍ، فَذَهَبْتُ لِأَدْنُوَ مِنْ أَهْلِي، فَقَالَتْ: إِنِّي لَمْ أُقَصِّرْ مِنْ شَعَرِي بَعْدُ، فَأَخَذْتُ مِنْ شَعَرِهَا بِأَسْنَانِي، ثُمَّ وَقَعْتُ بِهَا، فَضَحِكَ الْقَاسِمُ ، وَقَالَ: " مُرْهَا فَلْتَأْخُذْ مِنْ شَعَرِهَا بِالْجَلَمَيْنِ" .
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا قاسم بن محمد کے پاس اور اس نے کہا کہ میں نے طوافِ افاضہ کیا اور میرے ساتھ میری بیوی نے بھی طوافِ افاضہ کیا۔ پھر میں ایک گھاٹی کی طرف گیا تاکہ صحبت کروں اپنی بیوی سے، وہ بولی کہ میں نے ابھی بال نہیں کتروائے، میں نے دانتوں سے اس کے بال کترے اور اس سے صحبت کی۔ قاسم بن محمد ہنسے اور کہا کہ حکم کر اپنی عورت کو کہ بال کترے قینچی سے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 892]
تخریج الحدیث
«مقطوع صحيح، الشافعي فى «الاُم» ‏‏‏‏ برقم: 245/7، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 188»
حدیث نمبر: 893 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ لَقِيَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِهِ، يُقَالُ لَهُ: الْمُجَبَّرُ، قَدْ أَفَاضَ، وَلَمْ يَحْلِقْ، وَلَمْ يُقَصِّرْ جَهِلَ ذَلِكَ،" فَأَمَرَهُ عَبْدُ اللَّهِ أَنْ يَرْجِعَ، فَيَحْلِقَ، أَوْ يُقَصِّرَ، ثُمَّ يَرْجِعَ إِلَى الْبَيْتِ، فَيُفِيضَ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے عزیزوں میں سے ایک شخص سے ملے جس کا نام مجبر تھا (وہ بھتیجے تھے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے، سیدنا عبدالرحمٰن بن عمر رضی اللہ عنہما کے بیٹے) انہوں نے طوافِ افاضہ کر لیا تھا اور نہ حلق کیا نہ قصر نادانی سے، تو حکم کیا ان کو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے لوٹ جانے کا اور حلق یا قصر کر کے اور طواف الزیارۃ دوبارہ کرنے کا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 893]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، انفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 189»
حدیث نمبر: 894 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ،" كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ دَعَا بِالْجَلَمَيْنِ، فَقَصَّ شَارِبَهُ، وَأَخَذَ مِنْ لِحْيَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَرْكَبَ، وَقَبْلَ أَنْ يُهِلَّ مُحْرِمًا"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سالم بن عبداللہ بن عمر جب ارادہ کرتے احرام کا تو قینچی منگاتے اور مونچھ اور داڑھی کے بال لیتے قبل سواری کے اور قبل لبیک کہنے کے احرام باندھ کر۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 894]
تخریج الحدیث
«مقطوع ضعيف، انفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 190»