رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، الْقَاسِمُ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، فَقَالَ: إِنِّي أَفَضْتُ وَأَفَضْتُ مَعِي بِأَهْلِي، ثُمَّ عَدَلْتُ إِلَى شِعْبٍ، فَذَهَبْتُ لِأَدْنُوَ مِنْ أَهْلِي، فَقَالَتْ: إِنِّي لَمْ أُقَصِّرْ مِنْ شَعَرِي بَعْدُ، فَأَخَذْتُ مِنْ شَعَرِهَا بِأَسْنَانِي، ثُمَّ وَقَعْتُ بِهَا، فَضَحِكَ الْقَاسِمُ ، وَقَالَ: " مُرْهَا فَلْتَأْخُذْ مِنْ شَعَرِهَا بِالْجَلَمَيْنِ" .
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا قاسم بن محمد کے پاس اور اس نے کہا کہ میں نے طوافِ افاضہ کیا اور میرے ساتھ میری بیوی نے بھی طوافِ افاضہ کیا۔ پھر میں ایک گھاٹی کی طرف گیا تاکہ صحبت کروں اپنی بیوی سے، وہ بولی کہ میں نے ابھی بال نہیں کتروائے، میں نے دانتوں سے اس کے بال کترے اور اس سے صحبت کی۔ قاسم بن محمد ہنسے اور کہا کہ حکم کر اپنی عورت کو کہ بال کترے قینچی سے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 892]
تخریج الحدیث
«مقطوع صحيح، الشافعي فى «الاُم» برقم: 245/7، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 188»