بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
زکوٰۃ دینے والوں پر سختی کا بیان
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: زکوٰۃ کے بیان میں زکوٰۃ دینے والوں پر سختی کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 678 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ ، قَالَ: " لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا لَجَاهَدْتُهُمْ عَلَيْهِ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر نہ دیں گے رسی بھی اونٹ باندھنے کی تو میں جہاد کروں گا ان پر۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 678]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، و البخاري فى «صحيحه» برقم: 1400، 1456، 6925، 7285، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 20، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1556، والترمذي فى «جامعه» برقم:2607، والنسائي فى «المجتبيٰ» برقم: 2445، وأحمد فى «مسنده» برقم: 19/1، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 13286، شركة الحروف نمبر: 556، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 30»
حدیث نمبر: 679 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَنَّهُ قَالَ: شَرِبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لَبَنًا فَأَعْجَبَهُ، فَسَأَلَ الَّذِي سَقَاهُ: " مِنْ أَيْنَ هَذَا اللَّبَنُ؟" فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَرَدَ عَلَى مَاءٍ قَدْ سَمَّاهُ، فَإِذَا نَعَمٌ مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ، وَهُمْ يَسْقُونَ فَحَلَبُوا لِي مِنْ أَلْبَانِهَا فَجَعَلْتُهُ فِي سِقَائِي فَهُوَ هَذَا، فَأَدْخَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَدَهُ فَاسْتَقَاءَهُ
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دودھ پیا تو بھلا معلوم ہوا۔ پوچھا کہ یہ دودھ کہاں سے آیا؟ جو لایا تھا وہ بولا کہ میں ایک پانی پر گیا تھا اور اس کا نام بیان کیا، وہاں پر جانور زکوٰۃ کے پانی پی رہے تھے، لوگوں نے ان کا دودھ نچوڑ کر مجھے دیا، میں نے اپنی مشک میں رکھ لیا، وہ یہی دودھ تھا جو آپ نے پیا۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ منہ میں ڈال کر قے کی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 679]
تخریج الحدیث
«موقوف ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 13286، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 4031، والبيهقي فى «شعب الايمان» برقم: 5771، والشافعي فى «الاُم» ‏‏‏‏ برقم: 84/2
شیخ سلیم ہلالی نے کہا کہ اس کی سند انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے اور شیخ احمد سلیمان نے بھی اسے ضعیف کہا ہے۔، شركة الحروف نمبر: 556، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 31»
حدیث نمبر: 680 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عَامِلًا لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَتَبَ إِلَيْهِ يَذْكُرُ: أَنَّ رَجُلًا مَنَعَ زَكَاةَ مَالِهِ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ:" أَنْ دَعْهُ وَلَا تَأْخُذْ مِنْهُ زَكَاةً مَعَ الْمُسْلِمِينَ" قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ، وَأَدَّى بَعْدَ ذَلِكَ زَكَاةَ مَالِهِ، فَكَتَبَ عَامِلُ عُمَرَ إِلَيْهِ يَذْكُرُ لَهُ ذَلِكَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ أَنْ خُذْهَا مِنْهُ
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ ایک عامل نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو لکھا کہ ایک شخص اپنے مال کی زکوٰۃ نہیں دیتا، حضرت عمر رحمہ اللہ نے جواب میں لکھا کہ چھوڑ دے اس کو اور مسلمانوں کے ساتھ اور زکوٰۃ نہ لیا کر اس سے۔ یہ خبر اس شخص کو پہنچی، اس کو برا معلوم ہوا اور اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کر دی۔ بعد اس کے عامل نے حضرت عمر رحمہ اللہ کو اطلاع دی، انہوں نے جواب میں لکھا کہ لے لے زکوٰۃ کو اس شخص سے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 680]
تخریج الحدیث
«مقطوع ضعيف،
شیخ سلیم ہلالی نے کہا کہ اس کی سند انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے اور شیخ احمد سلیمان نے بھی اسے ضعیف کہا ہے۔، شركة الحروف نمبر: 556، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 32»