بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

موطا امام مالک (روایۃ یحیی)

حدیث نمبر: 679 — زکوٰۃ دینے والوں پر سختی کا بیان
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: زکوٰۃ کے بیان میں زکوٰۃ دینے والوں پر سختی کا بیان حدیث 679
زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَنَّهُ قَالَ: شَرِبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لَبَنًا فَأَعْجَبَهُ، فَسَأَلَ الَّذِي سَقَاهُ: " مِنْ أَيْنَ هَذَا اللَّبَنُ؟" فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَرَدَ عَلَى مَاءٍ قَدْ سَمَّاهُ، فَإِذَا نَعَمٌ مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ، وَهُمْ يَسْقُونَ فَحَلَبُوا لِي مِنْ أَلْبَانِهَا فَجَعَلْتُهُ فِي سِقَائِي فَهُوَ هَذَا، فَأَدْخَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَدَهُ فَاسْتَقَاءَهُ
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دودھ پیا تو بھلا معلوم ہوا۔ پوچھا کہ یہ دودھ کہاں سے آیا؟ جو لایا تھا وہ بولا کہ میں ایک پانی پر گیا تھا اور اس کا نام بیان کیا، وہاں پر جانور زکوٰۃ کے پانی پی رہے تھے، لوگوں نے ان کا دودھ نچوڑ کر مجھے دیا، میں نے اپنی مشک میں رکھ لیا، وہ یہی دودھ تھا جو آپ نے پیا۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ منہ میں ڈال کر قے کی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 679]
تخریج الحدیث
«موقوف ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 13286، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 4031، والبيهقي فى «شعب الايمان» برقم: 5771، والشافعي فى «الاُم» ‏‏‏‏ برقم: 84/2
شیخ سلیم ہلالی نے کہا کہ اس کی سند انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے اور شیخ احمد سلیمان نے بھی اسے ضعیف کہا ہے۔، شركة الحروف نمبر: 556، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 31»
← پچھلی حدیث (678) باب پر واپس اگلی حدیث (680) →