بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
ستاروں کی گردش سے پانی برسنے کا اعتقاد رکھنا
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: نماز استسقاء کے بیان میں ستاروں کی گردش سے پانی برسنے کا اعتقاد رکھنا
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 451 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ، عَلَى إِثْرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: أَتَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟، قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: قَالَ: " أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ بِي، فَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ، فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نماز پڑھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صبح کی حدیبیہ میں، اور رات کو پانی پڑ چکا تھا، تو جب نماز سے فارغ ہوئے متوجہ ہوئے لوگوں کی طرف اور فرمایا: تم جانتے ہو جو کہا تمہارے پروردگار نے؟ کہا: اللہ اور اس کے رسول کو معلوم ہے۔ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے: فرمایا اللہ جل جلالہُ نے، صبح کو میرے بندے دو قسم کے تھے، ایک وہ جو ایمان لایا میرے اوپر، دوسرے وہ جس نے کفر کیا ساتھ میرے، جس شخص نے کہا کہ پانی برسا اللہ کے فضل اور رحمت سے تو وہ میرے اوپر ایمان لایا، تاروں پر اعتقاد نہ رکھا، اور جو بولا کہ پانی برسا فلاں تارہ کی گردش سے تو اس نے کفر کیا میرے ساتھ اور ایمان لایا تاروں پر۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الِاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 451]
تخریج الحدیث
«صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 846، 1038، 4147، 7503، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 71، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 188، 6132، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1526، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 1846، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3906، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 3080، 6544، وأحمد فى «مسنده» برقم: 17309، والحميدي فى «مسنده» برقم: 832، والبزار فى «مسنده» برقم: 3771، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 21003، شركة الحروف نمبر: 416، فواد عبدالباقي نمبر: 13 - كِتَابُ الِاسْتِسْقَاءِ-ح: 4»
حدیث نمبر: 452 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ: " إِذَا أَنْشَأَتْ بَحْرِيَّةً ثُمَّ تَشَاءَمَتْ فَتِلْكَ عَيْنٌ غُدَيْقَةٌ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے: جب اُٹھے ابر سمندر کی طرف سے، پھر شام کی طرف جانے لگے تو جانو کہ ایک چشمہ ہے بھر پور۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الِاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 452]
تخریج الحدیث
«موضوع، وأخرجه الطبراني فى «الأوسط» برقم: 7758، شركة الحروف نمبر: 416، فواد عبدالباقي نمبر: 13 - كِتَابُ الِاسْتِسْقَاءِ-ح: 5»
حدیث نمبر: 453 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
أَبَا هُرَيْرَةَ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، كَانَ يَقُولُ: " إِذَا أَصْبَحَ وَقَدْ مُطِرَ النَّاسُ مُطِرْنَا بِنَوْءِ الْفَتْحِ ثُمَّ يَتْلُو هَذِهِ الْآيَةَ: مَا يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَهَا وَمَا يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ سورة فاطر آية 2"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے: جب صبح ہوتی تھی اور پانی برس جاتا تھا، پانی برسا اللہ کے حکم سے، پھر اس آیت کو پڑھتے تھے: « ﴿مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا، وَمَا يُمْسِكْ فَلَا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ﴾ [فاطر: 2] » یعنی اللہ جل جلالہُ اگر لوگوں پر رحمت کرنا چاہے تو کوئی اس کو روک نہیں سکتا، اور جو روکنا چاہے تو کوئی لے نہیں سکتا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الِاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 453]
تخریج الحدیث
«موقوف ضعيف، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 6547
شیخ سلیم ہلالی نے کہا ہے کہ اس کی سند انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے اور شیخ احمد سلیمان نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے۔، شركة الحروف نمبر: 416، فواد عبدالباقي نمبر: 13 - كِتَابُ الِاسْتِسْقَاءِ-ح: 6»