بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جمعہ کے دن کپڑے بدلنے، لوگوں کو پھاند کر جانے اور امام کی طرف منہ کر کے بیٹھنے کا بیان
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: جمعہ کے بیان میں جمعہ کے دن کپڑے بدلنے، لوگوں کو پھاند کر جانے اور امام کی طرف منہ کر کے بیٹھنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 239 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا عَلَى أَحَدِكُمْ لَوِ اتَّخَذَ ثَوْبَيْنِ لِجُمُعَتِهِ سِوَى ثَوْبَيْ مِهْنَتِهِ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
سیدنا یحییٰ بن سعید انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کا کیا نقصان ہے اگر وہ جمعہ کی نماز کے لئے روزمرہ کے کپڑوں کے علاوہ کپڑے بنا کر رکھے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجُمُعَةِ/حدیث: 239]
تخریج الحدیث
«حسن لغيره، وأخرجه أبو داود فى «سننه» برقم: 1078، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1095، والطبراني فى «الكبير» برقم: 167، والضياء المقدسي فى «الأحاديث المختارة» 451/9 برقم: 422، شركة الحروف نمبر: 227، فواد عبدالباقي نمبر: 5 - كِتَابُ الْجُمُعَةِ-ح: 17»
حدیث نمبر: 240 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
نَافِعٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " كَانَ لَا يَرُوحُ إِلَى الْجُمُعَةِ إِلَّا ادَّهَنَ وَتَطَيَّبَ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ حَرَامًا"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نہ جاتے جمعہ کو یہاں تک کہ تیل اور خوشبو لگا لیتے سوائے اس کے کہ جب احرام باندھے ہوتے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجُمُعَةِ/حدیث: 240]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 5306، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 5586، شركة الحروف نمبر: 228، فواد عبدالباقي نمبر: 5 - كِتَابُ الْجُمُعَةِ-ح: 17ق»
حدیث نمبر: 241 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَمَّنْ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " لَأَنْ يُصَلِّيَ أَحَدُكُمْ بِظَهْرِ الْحَرَّةِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَقْعُدَ، حَتَّى إِذَا قَامَ الْإِمَامُ يَخْطُبُ جَاءَ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اگر تم میں سے کوئی ظہر حرۃ میں نماز پڑھے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے اس سے کہ اپنے گھر میں بیٹھا رہے، اور جب امام خطبہ پڑھنے کو کھڑا ہو تو لوگوں کی گردنوں کو پھلانگتا ہوا آئے جمعہ کے دن۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجُمُعَةِ/حدیث: 241]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5970، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 5505، 5506، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 5524، 5580، شركة الحروف نمبر: 229، فواد عبدالباقي نمبر: 5 - كِتَابُ الْجُمُعَةِ-ح: 18»