بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جمعہ کے دن خطبہ ہو رہا ہو تو چپ رہنا چاہیے
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: جمعہ کے بیان میں جمعہ کے دن خطبہ ہو رہا ہو تو چپ رہنا چاہیے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 229 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ: أَنْصِتْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَدْ لَغَوْتَ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس وقت امام خطبہ پڑھتا ہے، اگر تو اپنے پاس والے سے کہے کہ چپ رہو تو تو نے بھی ایک لغو حرکت کی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجُمُعَةِ/حدیث: 229]
تخریج الحدیث
«صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 934، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 851، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2793، 2795، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1403، 1401، 1576، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 1738، 1739، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1112، والترمذي فى «جامعه» برقم: 512، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1589، 1590، 1591، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1110، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5905، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7450، والحميدي فى «مسنده» برقم: 996، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5846، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 5414، شركة الحروف نمبر: 216، فواد عبدالباقي نمبر: 5 - كِتَابُ الْجُمُعَةِ-ح: 6»
حدیث نمبر: 230 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
ابْنِ شِهَابٍ ، ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ الْقُرَظِيِّ ، عُمَرُ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ الْقُرَظِيِّ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ،" أَنَّهُمْ كَانُوا فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يُصَلُّونَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ حَتَّى يَخْرُجَ عُمَرُ ، فَإِذَا خَرَجَ عُمَرُ وَجَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُونَ. قَالَ ثَعْلَبَةُ: جَلَسْنَا نَتَحَدَّثُ فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُونَ، وَقَامَ عُمَرُ يَخْطُبُ أَنْصَتْنَا فَلَمْ يَتَكَلَّمْ مِنَّا أَحَدٌ . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَخُرُوجُ الْإِمَامِ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ وَكَلَامُهُ يَقْطَعُ الْكَلَامَ
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت ثعلبہ بن ابی مالک قرضی سے روایت ہے کہ لوگ جمعہ کے دن نماز پڑھا کرتے تھے، یہاں تک کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نکلتے۔ پھر جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نکلتے اور منبر پر بیٹھتے اور اذان دینے والے اذان دیتے تو ثعلبہ کہتے ہیں کہ ہم بیٹھے ہوئے باتیں کیا کرتے، جب مؤذن چپ ہوجاتے اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہو کر خطبہ پڑھتے تو کوئی بات نہ کرتا۔ ابن شہاب نے کہا: جب امام خطبہ کے لئے نکلے تو نماز موقوف کر نا چاہیئے اور جب خطبہ شروع کرے تو بات موقوف کرنا چاہیے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجُمُعَةِ/حدیث: 230]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5766، 5767، 5768، 5798، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 5216، 5339، 5344، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 2174، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 435/9، شركة الحروف نمبر: 217، فواد عبدالباقي نمبر: 5 - كِتَابُ الْجُمُعَةِ-ح: 7»
حدیث نمبر: 231 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
أَبِي النَّضْرِ ، مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ ، عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ كَانَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ، قَلَّمَا يَدَعُ ذَلِكَ إِذَا خَطَبَ: " إِذَا قَامَ الْإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَاسْتَمِعُوا وَأَنْصِتُوا، فَإِنَّ لِلْمُنْصِتِ الَّذِي لَا يَسْمَعُ مِنَ الْحَظِّ مِثْلَ مَا لِلْمُنْصِتِ السَّامِعِ، فَإِذَا قَامَتِ الصَّلَاةُ فَاعْدِلُوا الصُّفُوفَ وَحَاذُوا بِالْمَنَاكِبِ، فَإِنَّ اعْتِدَالَ الصُّفُوفِ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ، ثُمَّ لَا يُكَبِّرُ حَتَّى يَأْتِيَهُ رِجَالٌ، قَدْ وَكَّلَهُمْ بِتَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ، فَيُخْبِرُونَهُ أَنْ قَدِ اسْتَوَتْ فَيُكَبِّرُ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت مالک بن ابی عامر سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب خطبہ کے لئے کھڑے ہوتے تو اکثر کہا کرتے اور بہت کم ایسا ہوتا کہ یہ بات نہ کہتے کہ: اے لوگو! جب امام خطبہ کے لئے کھڑا ہو تو خطبہ کو سنا کرو، اور چپ رہا کرو، کیونکہ جو شخص چپ رہے گا اور خطبہ اس کو سنائی نہ دے گا تب بھی اس کو اتنا ہی اجر ملے گا جتنا اس شخص کو ملے گا جو چپ ہو کر خطبہ سنتا ہے، اور خطبہ اس کو سنائی بھی دیتا ہے، اور جب نماز کے لئے تکبیر ہو تو صفوں اور مونڈھوں کو برابر کیا کرو، کیونکہ صفوں کا برابر کرنا نماز کو مکمل کرنا ہے۔ پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت تک تکبیرِ تحریمہ نہیں کہتے تھے جب تک کہ وہ لوگ جن کو صفیں برابر کرنے کے لئے مقرر کیا ہوتا تھا آکر یہ نہ کہہ دیتے تھے کہ صفیں برابر ہوگئیں، پھر تکبیرِ تحریمہ کہتے تھے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجُمُعَةِ/حدیث: 231]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5915، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 2442، 2443، 2780، 2781، 5372، 5373، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 3552، شركة الحروف نمبر: 218، فواد عبدالباقي نمبر: 5 - كِتَابُ الْجُمُعَةِ-ح: 8»
حدیث نمبر: 232 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
نَافِعٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " رَأَى رَجُلَيْنِ يَتَحَدَّثَانِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَحَصَبَهُمَا أَنِ اصْمُتَا"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے دو مردوں کو دیکھا جو خطبہ کے وقت باتیں کر رہے تھے، تو اُن پر کنکر پھینکے تاکہ وہ چپ رہیں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجُمُعَةِ/حدیث: 232]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 5426، 5427، 5428، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 5261، شركة الحروف نمبر: 219، فواد عبدالباقي نمبر: 5 - كِتَابُ الْجُمُعَةِ-ح: 9»
حدیث نمبر: 233 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ رَجُلًا عَطَسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَشَمَّتَهُ إِنْسَانٌ إِلَى جَنْبِهِ فَسَأَلَ عَنْ ذَلِكَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ، وَقَالَ: " لَا تَعُدْ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو یہ بات پہنچی کہ ایک شخص جمعہ کے دن اس حالت میں چھینکا کہ امام خطبہ پڑھ رہا تھا، تو اُس کو ایک آدمی نے جواب دیا (یعنی یرحمک اللہ کہا)، پھر سعید بن مسیّب سے پوچھا، تو انہوں نے منع کیا اس سے اور کہا کہ پھر ایسا نہ کرنا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجُمُعَةِ/حدیث: 233]
تخریج الحدیث
«مقطوع صحيح، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 5439، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 5266، شركة الحروف نمبر: 219، فواد عبدالباقي نمبر: 5 - كِتَابُ الْجُمُعَةِ-ح: 10»
حدیث نمبر: 234 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ، عَنْ الْكَلَامِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذَا نَزَلَ الْإِمَامُ، عَنِ الْمِنْبَرِ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ، فَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ:" لَا بَأْسَ بِذَلِكَ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن شہاب زہری سے پوچھا کہ جب امام منبر سے خطبہ پڑھ کر اُترے تو تکبیر سے پہلے بات کرنا کیسا ہے؟ ابن شہاب نے کہا: کوئی حرج نہیں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجُمُعَةِ/حدیث: 234]
تخریج الحدیث
«مقطوع صحيح، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم:208/3، شركة الحروف نمبر: 220، فواد عبدالباقي نمبر: 5 - كِتَابُ الْجُمُعَةِ-ح: 10ق»