بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
موزوں کے مسح کی ترکیب کا بیان
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: طہارت کے بیان میں موزوں کے مسح کی ترکیب کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 74 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبَاهُ
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَنَّهُ رَأَى أَبَاهُ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ، قَالَ:" وَكَانَ لَا يَزِيدُ إِذَا مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ عَلَى أَنْ يَمْسَحَ ظُهُورَهُمَا وَلَا يَمْسَحُ بُطُونَهُمَا"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے باپ کو دیکھا جب مسح کرتے موزوں پر تو مسح کرتے موزوں کی پشت پر، نہ اندر کی جانب۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 74]
تخریج الحدیث
«مقطوع صحيح، وأخرجه الأم للشافعي برقم: 226/7، شركة الحروف نمبر: 68، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 45» شیخ سلیم ہلالی اور شیخ احمدعلی سلیمان نے کہا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 75 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ كَيْفَ هُوَ؟ فَأَدْخَلَ ابْنُ شِهَابٍ إِحْدَى يَدَيْهِ تَحْتَ الْخُفِّ وَالأُخْرَى فَوْقَهُ ثُمَّ أَمَرَّهُمَا. قَالَ مَالِكٌ وَقَوْلُ ابْنِ شِهَابٍ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَىَّ فِي ذَلِكَ. قَالَ يَحْيَى: قَالَ مَالِك: وَقَوْلُ ابْنِ شِهَابٍ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي ذَلِكَ
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے ابن شہاب زہری رحمہ اللہ سے موزوں پر مسح کے متعلق پوچھا کہ وہ کس طرح ہوتا ہے؟ تو ابن شہاب رحمہ اللہ نے اپنا ایک ہاتھ موزے کے نیچے رکھا اور دوسرا اوپر، پھر ان دونوں کو (موزے پر پھیرتے ہوئے) گزار دیا۔
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن شہاب رحمہ اللہ کا قول مجھے ان تمام اقوال سے زیادہ پسند ہے جو میں نے اس مسئلے میں سنے ہیں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 75]
تخریج الحدیث
«مقطوع صحيح، وأخرجه الأم للشافعي برقم: 226/7، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 854، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 1402، شركة الحروف نمبر: 69، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 45ب» شیخ سلیم ہلالی اور حامد احمد ظاہر نے کہا کہ اس کی سند صحیح ہے۔