بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

موطا امام مالک (روایۃ یحیی)

حدیث نمبر: 790 — محرم کو کون سے جانور مارنے درست ہیں
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: حج کے بیان میں محرم کو کون سے جانور مارنے درست ہیں حدیث 790
ابْنِ شِهَابٍ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ " أَمَرَ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ فِي الْحَرَمِ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
ابن شہاب سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حکم کیا سانپوں کے مارنے کا حرم میں۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ کٹنے کتے سے، جس کے مارنے کا حرم میں حکم ہوا ہے، مراد یہ ہے کہ جو جانور لوگوں کو کاٹے یا ان پر حملہ کرے، یا ڈرائے، جیسے شیر اور چیتا اور ریچھ اور بھیڑیا، اس کو مار ڈالنا درست ہے اور وہ کٹنے کتے میں داخل ہے، البتہ جو درندے حملہ نہیں کرتے جیسے بجو اور لومڑی اور بلی، اور جو ان کے مشابہ ہیں، ان کو محرم نہ مارے، اگر مارے گا تو اس پر فدیہ لازم ہوگا۔ کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: جو درندے نقصان پہنچاتے ہیں محرم ان کو نہ مارے مگر جن کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نام لیا ہے کوے اور چیل کو، اگر ان دونوں کے سوا اور کسی پرندہ کو محرم مارے گا تو اس پر جزاء لازم ہوگی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 790]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10169، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 8380، 8381، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 15057، 15066، 15984، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 91»
← پچھلی حدیث (789) باب پر واپس اگلی حدیث (791) →