عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مَنْ يَثِقُ بِهِ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُرِيَ أَعْمَارَ النَّاسِ قَبْلَهُ. أَوْ مَا شَاءَ اللّٰهُ مِنْ ذَلِكَ. فَكَأَنَّهُ تَقَاصَرَ أَعْمَارَ أُمَّتِهِ أَنْ لَا يَبْلُغُوا مِنَ الْعَمَلِ، مِثْلَ الَّذِي بَلَغَ غَيْرُهُمْ فِي طُولِ الْعُمْرِ، فَأَعْطَاهُ اللّٰهُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ.
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا ایک شخص عام معتبر سے، کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اگلے لوگوں کی عمریں بتلائی گئیں جتنا اللہ کو منظور تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی اُمّت کی عمروں کو کم سمجھا اور خیال کیا کہ یہ لوگ اُن کے برابر عمل نہ کر سکیں گے، پس دی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے شبِ قدر جو بہتر ہے ہزار مہینے سے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 642]
تخریج الحدیث
«مرفوع ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «شعب الايمان» برقم: 3667
شیخ سلیم ہلالی نے کہا کہ اس کی سند ضعیف ہے اور شیخ احمد سلیمان نے بھی اسے ضعیف کہا ہے۔، شركة الحروف نمبر: 652، فواد عبدالباقي نمبر: 19 - كِتَابُ الِاعْتِكَافِ-ح: 15»