زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ فَتَمَضْمَضَ، خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ فِيهِ، وَإِذَا اسْتَنْثَرَ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ أَنْفِهِ، فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ وَجْهِهِ، حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَشْفَارِ عَيْنَيْهِ، فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ يَدَيْهِ، حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ يَدَيْهِ، فَإِذَا مَسَحَ بِرَأْسِهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ رَأْسِهِ، حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ أُذُنَيْهِ، فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ رِجْلَيْهِ، حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ رِجْلَيْهِ، قَالَ: ثُمَّ كَانَ مَشْيُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَصَلَاتُهُ نَافِلَةً لَهُ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت عبداللہ الصنابحی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جس وقت مومن بندہ وضو شروع کرتا ہے پھر کلی کرتا ہے، نکل جاتے ہیں گناہ اس کے منہ سے۔ پھر جس وقت منہ دھوتا ہے نکل جاتے ہیں اس کے منہ سے، یہاں تک کہ نکل جاتے ہیں پلکوں کے اُگنے کی جگہ یعنی پپوٹوں سے۔ پھر جس وقت مسح کرتا ہے سر کا نکل جاتے ہیں گناہ اس کے سر سے، یہاں تک کہ نکل جاتے ہیں اس کے دونوں کانوں سے۔ پھر جس وقت پاؤں دھوتا ہے نکل جاتے ہیں گناہ اس کے دونوں پاؤں سے، یہاں تک کہ نکل جاتے ہیں اس کے دونوں پاؤں کے ناخنوں سے۔ پھر چلنا اس کا مسجد کی طرف، اور نماز الگ ہے یعنی اس کا ثواب جداگانہ ہے۔“ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 59]
تخریج الحدیث
«صحيح لغيرہ، وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 445، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 103، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 107، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 282، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 383، وأحمد فى «مسنده» برقم: 19370، 19371، 19374، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 2794، شركة الحروف نمبر: 55، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 30» شیخ سلیم ہلالی نے اس روایت کو صحیح لغیرہ کہا ہے اور امام حاکمؒ نے کہا ہے کہ اس کی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔