بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

موطا امام مالک (روایۃ یحیی)

حدیث نمبر: 476 — قرآن کے بیان میں
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: قرآن کے بیان میں قرآن کے بیان میں حدیث 476
هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ: أُنْزِلَتْ عَبَسَ وَتَوَلَّى فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَقُولُ: يَا مُحَمَّدُ اسْتَدْنِينِي، وَعِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ عُظَمَاءِ الْمُشْرِكِينَ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرِضُ عَنْهُ وَيُقْبِلُ عَلَى الْآخَرِ، وَيَقُولُ:" يَا أَبَا فُلَانٍ هَلْ تَرَى بِمَا أَقُولُ بَأْسًا؟" فَيَقُولُ: لَا وَالدِّمَاءِ مَا أَرَى بِمَا تَقُولُ بَأْسًا، فَأُنْزِلَتْ عَبَسَ وَتَوَلَّى {1} أَنْ جَاءَهُ الأَعْمَى سورة عبس آية 1-2
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے، کہا انہوں نے: « ﴿عَبَسَ وَتَوَلَّى﴾ » اتری ہے سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ میں، وہ آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اور کہنے لگے: اے محمد! بتاؤ مجھ کو کوئی جگہ قریب اپنے تاکہ بیٹھوں میں وہاں، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اس وقت ایک شخص بیٹھا تھا بڑے آدمیوں میں سے مشرکوں کے (ابی بن خلف یا عتبہ بن ربیعہ) تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم توجہ نہ کرتے تھے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی طرف بلکہ متوجہ ہوتے تھے اس شخص کی طرف اور کہتے تھے: اے باپ فلاں کے! کیا میں جو کہتا ہوں اس میں کچھ حرج ہے؟ وہ کہتا تھا: نہیں، قسم ہے بتوں کی! تمہارے کہنے میں کچھ حرج نہیں ہے۔ تب یہ آیتیں اتریں: « ﴿عَبَسَ وَتَوَلَّى، أَنْ جَاءَهُ الْأَعْمَى﴾ » [عبس: 1، 2] ۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْقُرْآنِ/حدیث: 476]
تخریج الحدیث
«إسناده صحيح، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 535، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 3918، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3331، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 4848، شركة الحروف نمبر: 437، فواد عبدالباقي نمبر: 15 - كِتَابُ الْقُرْآنِ-ح: 8»
← پچھلی حدیث (475) باب پر واپس اگلی حدیث (477) →