وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك،" أَنَّهُ رَأَى رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقْلِسُ مِرَارًا، وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَلَا يَنْصَرِفُ وَلَا يَتَوَضَّأُ حَتَّى يُصَلِّيَ".
قَالَ يَحْيَى: وَسُئِلَ مَالِك، عَنْ رَجُلٍ قَلَسَ طَعَامًا، هَلْ عَلَيْهِ وُضُوءٌ؟ فَقَالَ: لَيْسَ عَلَيْهِ وُضُوءٌ وَلْيَتَمَضْمَضْ مِنْ ذَلِكَ وَلْيَغْسِلْ فَاهُ
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن کو دیکھا، کئی مرتبہ انہوں نے قے کی پانی کی اور وہ مسجد میں تھے، پھر وضو نہ کیا اور نماز پڑھ لی۔
امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ جس نے ادکا کھانے کو کیا اس پر وضو ہے؟ کہا: اس پر وضو نہیں ہے، بلکہ کلی کر ڈالے اور منہ دھو لے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 45]
تخریج الحدیث
«مقطوع صحيح، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 45، انفرد به المصنف من هذا الطريق، شركة الحروف نمبر: 42، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 17» شیخ سلیم ہلالی اور شیخ احمد علی سلیمان نے اس روایت کو صحیح کہا ہے۔