260- مالك عن نافع عن القاسم بن محمد عن عائشة أم المؤمنين أنها اشترت نمرقة فيها تصاوير. فلما رآها رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم قام على الباب فلم يدخل، فعرفت فى وجهه الكراهية وقالت: يا رسول الله، أتوب إلى الله ورسوله، فماذا أذنبت؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم: ”ما بال هذه النمرقة؟“ قالت: اشتريتها لك تقعد عليها وتتوسدها. فقال رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم: ”إن أصحاب هذه الصور يوم القيامة يعذبون بها، يقال لهم: أحيوا ما خلقتم“، ثم قال: إن البيت الذى فيه الصور لا تدخله الملائكة.“
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک تکیہ نما چھوٹا کمبل خریدا جس پر تصویریں تھیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے دیکھا تو دروازے پر کھڑے ہو گئے اور اندر تشریف نہ لائے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرے پر ناپسندیدگی کے اثرات دیکھے اور کہا: یا رسول اللہ! میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرتی ہوں، مجھ سے کیا غلطی ہوئی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ نمرقہ (چھوٹا تکیہ) کیا ہے؟“ میں نے کہا: میں نے اسے آپ کے لیے خریدا ہے تاکہ آپ اس پر بیٹھیں اور تکیہ لگائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ان تصویر والوں کو قیامت کے دن عذاب ہو گا، انہیں کہا جائے گا کہ تم نے جو بنایا ہے اسے زندہ کرو۔“، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جس گھر میں تصویریں ہوں وہاں (رحمت کے) فرشتے داخل نہیں ہوتے۔“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 589]
تخریج الحدیث
«260- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 966/2، 967 ح 1869، ك 54 ب 3 ح 8) التمهيد 50/16،51، الاستذكار:1805، أخرجه البخاري (2105) و مسلم (2107/96) من حديث مالك به، وفي رواية يحيي بن يحيي: ”وتوسدها“.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح