بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
غیر موجود چیز بیچنے کا حکم
Muwatta Malik (Ibn al-Qasim)
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) خرید و فروخت کے مسائل غیر موجود چیز بیچنے کا حکم
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 502 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
240- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم نهى عن بيع حبل الحبلة، وكان بيعا يتبايعه أهل الجاهلية. كان الرجل يبتاع الجزور إلى أن تنتج الناقة ثم تنتج التى فى بطنها.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (جانور کے پیٹ میں) حمل کے حمل کو بیچنے سے منع فرمایا ہے اور یہ سودا تھا جو اہل جاہلیت ایک دوسرے کے ساتھ کرتے تھے۔ آدمی اس اونٹ کا سودا کرتا تھا کہ اونٹنی ایک بچی جنے گی پھر اس سے جو اونٹ پیدا ہو گا وہ میرا ہے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 502]
تخریج الحدیث
«240- الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 653/2، 654 ح 1394، ك 31 ب 26 ح 62) التمهيد 313/13، الاستذكار:1315، و أخرجه البخاري (2143) من حديث مالك، ومسلم (1514) من حديث نافع به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح