بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
کچا پھل بیچنے کی ممانعت
Muwatta Malik (Ibn al-Qasim)
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) خرید و فروخت کے مسائل کچا پھل بیچنے کی ممانعت
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 496 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
151- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم نهى عن بيع الثمار حتى تزهي. فقيل له: يا رسول الله وما تزهي؟ قال ”حين تحمر.“ وقال رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم: أرأيت إذا منع الله الثمرة فبم يأخذ أحدكم مال أخيه؟.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھلوں کے پکنے سے پہلے انہیں بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ پوچھا: گیا: یا رسول اللہ! پکنے سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سرخ ہو جانا اور رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بھلابتاؤ: اگر اللہ پھل روک لے تو پھر تم کس وجہ سے اپنے بھائی کا مال لو گے؟ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 496]
تخریج الحدیث
«151- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 618/2 ح 1341، ك 31 ب 8 ح 11) التمهيد 190/2، الاستذكار:1261، و أخرجه البخاري (1488، 2198) ومسلم (1555/15) من حديث مالك به وصرح حميد بالسماع عند البخاري (2197)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 497 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
235- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم نهى عن بيع الثمار حتى يبدو صلاحها، نهى البائع والمشتري.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کی ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دکاندار اور گاہک دونوں کو پھلوں کے پکنے سے پہلے بیچنے اور خریدنے سے منع کیا ہے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 497]
تخریج الحدیث
«235- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 618/2 ح 1340، ك 31 ب 8 ح 10) التمهيد 13/15، الاستذكار:1153، و أخرجه البخاري (2194) ومسلم (1534/49) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح