66- مالك عن ابن شهاب عن عيسى بن طلحة بن عبيد الله عن عبد الله ابن عمرو بن العاص أنه قال: وقف رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم فى حجة الوداع بمنى للناس فجاؤوا يسألونه فجاء رجل فقال: يا رسول الله، لم أشعر فحلقت قبل أن أذبح، فقال: ”اذبح ولا حرج.“ فجاء رجل آخر فقال: يا رسول الله، لم أشعر فنحرت قبل أن أرمي. فقال له: ”ارم ولا حرج.“ قال: فما سئل رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم عن شيء قدم ولا أخر إلا قال: ”افعل ولا حرج.“
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
سیدنا عبداﷲ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حجتہ الوداع کے موقع پر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منٰی میں لوگوں کے لیے کھڑے ہوئے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس مسائل پوچھنے آئے ایک آدمی نے آ کر کہا: یا رسول اﷲ! مجھے پتا نہیں تھا، میں نے قربانی ذبح کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی ذبح کر لے اور کوئی حرج نہیں ہے“، پھر دوسرا آدمی آیا اور کہا: یا رسول اﷲ! مجھے پتا نہیں تھا، میں نے جمعرات کو کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی ذبح کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کنکریاں مارلے اور کوئی حرج نہیں ہے“، عبداﷲ بن عمروبن العاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس دن رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جس چیز کے بارے میں پوچھا گیاجس میں تقدیم و تاخیر ہو گئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہی جواب دیا کہ کر لو اور کوئی حرج نہیں ہے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 329]
تخریج الحدیث
«66- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 421/1 ح 970، ك 20 ب 81 ح 242) التمهيد 264/7 وقال: ”هٰذا حديث صحيح“ الاستذكار: 911، و أخرجه البخاري (83، 1736) ومسلم من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح