بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)

حدیث نمبر: 329 — حج میں لازمی عمل بھول جائے یا ترک کر دے تو دم ضروری ہے
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) حج کے مسائل حج میں لازمی عمل بھول جائے یا ترک کر دے تو دم ضروری ہے حدیث 329
66- مالك عن ابن شهاب عن عيسى بن طلحة بن عبيد الله عن عبد الله ابن عمرو بن العاص أنه قال: وقف رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم فى حجة الوداع بمنى للناس فجاؤوا يسألونه فجاء رجل فقال: يا رسول الله، لم أشعر فحلقت قبل أن أذبح، فقال: ”اذبح ولا حرج.“ فجاء رجل آخر فقال: يا رسول الله، لم أشعر فنحرت قبل أن أرمي. فقال له: ”ارم ولا حرج.“ قال: فما سئل رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم عن شيء قدم ولا أخر إلا قال: ”افعل ولا حرج.“
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
سیدنا عبداﷲ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حجتہ الوداع کے موقع پر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منٰی میں لوگوں کے لیے کھڑے ہوئے تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس مسائل پوچھنے آئے ایک آدمی نے آ کر کہا: یا رسول اﷲ! مجھے پتا نہیں تھا، میں نے قربانی ذبح کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قربانی ذبح کر لے اور کوئی حرج نہیں ہے، پھر دوسرا آدمی آیا اور کہا: یا رسول اﷲ! مجھے پتا نہیں تھا، میں نے جمعرات کو کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی ذبح کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کنکریاں مارلے اور کوئی حرج نہیں ہے، عبداﷲ بن عمروبن العاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس دن رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جس چیز کے بارے میں پوچھا گیاجس میں تقدیم و تاخیر ہو گئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہی جواب دیا کہ کر لو اور کوئی حرج نہیں ہے۔ ​ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 329]
تخریج الحدیث
«66- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 421/1 ح 970، ك 20 ب 81 ح 242) التمهيد 264/7 وقال: ”هٰذا حديث صحيح“ الاستذكار: 911، و أخرجه البخاري (83، 1736) ومسلم من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (328) باب پر واپس اگلی حدیث (330) →