بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
میت کو کافور ملے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دینا مستحب ہے
Muwatta Malik (Ibn al-Qasim)
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) جنازے کے مسائل میت کو کافور ملے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دینا مستحب ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 220 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
129- وبه عن محمد بن سيرين عن أم عطية الأنصارية أنها قالت: دخل علينا رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم حين توفيت ابنته فقال: اغسلنها ثلاثا أو أكثر من ذلك إن رأيتن ذلك بماء وسدر، واجعلن فى الآخرة كافورا أو شيئا من كافور فإذا فرغتن فآذنني. قالت: فلما فرغنا آذناه فأعطانا حقوه، فقال: أشعرنها إياه تعني إزاره.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
سیدہ ام عطیہ الانصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی (سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا) فوت ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم   ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اسے تین فعہ یا اگر مناسب سمجھو تو زیادہ دفعہ پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ غسل دینا اور آخر میں اس میں کافور یا کافور کا کچھ حصہ ڈالنا، پھر جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع دینا۔ ام عطیہ نے کہا: جب ہم فارغ ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اطلاع دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اپنے ازار والی چادر دی اور فرمایا: اس کے بدن کو اس (چادر) میں لپیٹ دو۔   [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 220]
تخریج الحدیث
«129- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 222/1 ح 521، ك 16 ب 1 ح 2) التمهيد 371/1، الاستذكار: 482، و أخرجه البخاري (1253) و مسلم (939/38) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح