5- وبه أنه قال: ”كنا نصلي العصر ثم يذهب الذاهب إلى قباء فيأتيهم والشمس مرتفعة.“
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم عصر کی نماز پڑھتے، پھر جانے والا قُباء (کے علاقے میں) جاتا پھر وہ وہاں پہنچتا اور (اس اثنا میں) سورج بلند ہوتا تھا۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 82]
تخریج الحدیث
«5- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 9/1، ح 10، ك 1، ب 1، ح 11) التمهيد 177/6، الاستذكار: 9، أخرجه البخاري (551) ومسلم (621) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح