بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)

حدیث نمبر: 41 — قبلہ رخ ہو کر قضائے حاجت کرنا منع ہے
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) قضائے حاجت کا بیان قبلہ رخ ہو کر قضائے حاجت کرنا منع ہے حدیث 41
502- مالك عن يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن حبان عن عمه واسع ابن حبان عن ابن عمر أنه كان يقول: إن ناسا يقولون: إذا قعدت على حاجتك فلا تستقبل القبلة ولا بيت المقدس. قال عبد الله بن عمر: لقد ارتقيت على ظهر بيت لنا، فرأيت رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم على لبنتين مستقبلا بيت المقدس لحاجته وقال: ”لعلك من الذين يصلون على أوراكهم“ فقلت: لا أدري والله، يعني الذى يسجد ولا يرتفع عن الأرض، يسجد وهو لاصق بالأرض.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر تم قضائے حاجت کے لئے بیٹھو تو نہ قبلے کی طرف رخ کرو اور نہ بیت المقدس کی طرف۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا تھا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیت المقدس کی طرف رخ کئے قضائے حاجت کر رہے تھے۔ پھر انہوں نے (واسع بن حبان رحمہ اللہ سے) فرمایا: ہو سکتا ہے کہ تم ان لوگوں میں سے ہو جو سرینوں پر نماز پڑھتے ہیں؟ (واسع بن حبان رحمہ اللہ نے کہا) میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا۔ (امام مالک نے فرمایا:) یعنی وہ شخص جو سجدہ کرتا ہے تو زمین سے بلند نہیں ہوتا بلکہ زمین سے چمٹے ہوئے سجدہ کرتا ہے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 41]
تخریج الحدیث
«502- الموطأ (رواية يحيیٰي بن يحيیٰي 193/1، 194 ح 457، ك 14 ب 2 ح 3) التمهيد 303/23 مختصراً، الاستذكار: 426 و أخرجه البخاري (145) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح
← پچھلی حدیث (40) باب پر واپس اگلی حدیث (42) →