493- مالك عن يحيى بن سعيد عن سليمان بن يسار: أن عبد الله بن عباس وأبا سلمة بن عبد الرحمن اختلفا فى المرأة تنفس بعد وفاة زوجها بليال، فقال ابن عباس: آخر الأجلين، وقال أبو سلمة: إذا نفست فقد حلت. فجاء أبو هريرة فقال: أنا مع ابن أخي، يعني أبا سلمة. فبعثوا كريبا مولى ابن عباس إلى أم سلمة زوج النبى صلى الله عليه و آله وسلم يسألها عن ذلك، فجاءهم فأخبرهم أنها قالت: ولدت سبيعة الأسلمية بعد وفاة زوجها بليال، فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه و آله وسلم فقال: ”قد حللت فانكحي من شئت.“
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ کا ایسی عورت کے بارے میں اختلاف ہوا جس کے ہاں اس کے شوہر کی وفات کے چند دن بعد بچے کی پیدائش ہوئی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: دونوں عدتوں میں سے جو بعد میں ختم ہو یعنی چار مہینے اور دس دن عدت گزارے گی اور ابوسلمہ نے کہا: اس کے بچے کی پیدائش ہو گئی لہٰذا اس کی عدت ختم ہو گئی۔ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو فرمایا: میں اپنے بھتیجے یعنی ابوسلمہ کے ساتھ ہوں، پھر انہوں نے یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب رحمہ اللہ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیوی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا۔ پھر اس (کریب) نے آ کر انہیں بتایا کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: سیدہ سبیعہ الاسلمیہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ان کے خاوند کی وفات کے چند دن بعد بچے کی پیدائش ہوئی تو انہوں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری عدت ختم ہوگئی ہے لہٰذا جس سے چاہو نکا ح کرلو۔“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 381]
تخریج الحدیث
«493- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 590/2 ح 1289، ك 29 ب 30 ح 86) التمهيد 150/23، الاستذكار: 1207، و أخرجه النسائي (193/6 ح 3544) من حديث ابن القاسم عن مالك به۔ ورواه مسلم (1485/57، دارالسلام: 3723) من حديث يحييٰ بن سعيد الانصاري به۔ ورواه البخاري (4909)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح