بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)

حدیث نمبر: 308 — جس کے پاس قربانی نہ ہو اور وہ حج کے مہینوں میں بیت اللہ پہنچ جائے
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) حج کے مسائل جس کے پاس قربانی نہ ہو اور وہ حج کے مہینوں میں بیت اللہ پہنچ جائے حدیث 308
497- وبه: أنها سمعت عائشة تقول: خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم بخمس ليال بقين من ذي القعدة ولا نرى إلا أنه الحج فلما دنونا من مكة أمر رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم من لم يكن معه هدي إذا طاف بالبيت وسعى بين الصفا والمروة أن يحل. قالت: عائشة: فدخل علينا يوم النحر بلحم بقر، فقلت: ما هذا؟ فقالوا: نحر رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم عن أزواجه. قال يحيى: فذكرت هذا الحديث للقاسم بن محمد فقال: أتتك بالحديث على وجهه.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ (مدینے سے) نکلے تو ذوالقعدہ کی پانچ راتیں باقی تھیں اور ہمارا صرف حج کا ارادہ تھا پھر جب ہم مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا کہ جس کے پاس قربانی کے جانور نہیں ہیں، اگر اس نے بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر لی ہے تو احرام کھول دے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: پھر قربانی والے دن ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا تو میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے قربانی کی ہے یحییٰ (بن سعید الانصاری) نے کہا: پھر میں نے یہ حدیث قاسم بن محمد کے سامنے بیان کی تو انہوں نے فرمایا: عمرہ نے تمہیں یہ حدیث بالکل اصل کے مطابق سنائی ہے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 308]
تخریج الحدیث
«497- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 393/1 ح 907، ك 20 ب 58 ح 179) التمهيد 356/23، الاستذكار: 847، و أخرجه البخاري (1709) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح
← پچھلی حدیث (307) باب پر واپس اگلی حدیث (309) →